Updated: September 25, 2026, 1:13 PM IST
| Washington
امریکہ میں کئے گئے حالیہ سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ ہر چار میں سے محض ایک امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار سے مطمئن ہے،جبکہ یہ شرح مارچ میں۳۳؍ فیصد تھی،اس کے علاوہ ریپبلکن میں بھی حمایت کم ہوئی ہے کیونکہ بیشترامریکی جنگ کی سمت اور اخراجات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مسلسل کمی آ رہی ہے، تازہ رائے شماری کے مطابق۳۰؍ فیصد سے بھی کم امریکی ان کی انتظامیہ کے ایران کے ساتھ تنازعے سے نمٹنے کے طریقے کی حمایت کرتے ہیں۔ایک نئی سی این این/ایس ایس آر ایس رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً چار میں سے صرف ایک امریکی ان کے طریقہ کار کی حمایت کرتا ہے، اور اکثریت کا کہنا ہے کہ اس تنازعے نے امریکہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ رائے شماری۱۶؍ سے۱۷؍ ستمبر کے دوران۱۲۰۶؍ امریکی بالغوں میں کی گئی، جس میں پتا چلا کہ۲۶؍ فیصد ٹرمپ کے ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے طریقے کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ۷۳؍ فیصد مخالفت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ مارچ میں کی گئی سی این این/ایس ایس آر ایس رائے شماری میں۳۳؍ فیصد حمایت سے کم ہے، جو تنازعے کے آغاز کے فوراً بعد کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس: پریس پر پابندی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا
علاوہ ازیں اس ہفتے جاری ہونے والی ایک الگ رائٹرز/آئیپسوس رائے شماری میں پتا چلا کہ ٹرمپ کی مجموعی حمایت۳۲؍ فیصد ہے، جبکہ۳۴؍ فیصد ایران پر حملوں سے نمٹنے کے ان کے طریقے کی حمایت کرتے ہیں۔یہ اعداد و شمار نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آئے ہیں، اور اس وقت جب ٹرمپ نے اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایران تنازعے کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا۔رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تبدیلی صرف ٹرمپ کے ڈیموکریٹ مخالفین تک محدود نہیں ہے۔ سی این این کے سروے کے تجزیے کے مطابق، ریپبلکن میں۶۰؍ فیصد ایران سے نمٹنے کے ان کے طریقے کی حمایت کرتے ہیں، جو مارچ میں۷۳؍ فیصد تھی۔ جبکہ ۴۵؍ سال سے کم عمر کے ریپبلکن اور ریپبلکن جھکاؤ رکھنے والے بالغوں میں،۵۳؍ فیصد ٹرمپ کے تنازعے سے نمٹنے کے طریقے کی مخالفت کرتے ہیں۔ MAGA تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے ریپبلکن میں،۵۴؍ فیصد مخالفت کرتے ہیں۔ن
یاد رہے کہ ریپبلکن، ڈیموکریٹس اور آزاد رائے دہندگان کے مقابلے میں جنگ کے زیادہ حامی رہتے ہیں۔ رائے شماری میں پتا چلا کہ۵۵؍ فیصد ریپبلکن کا ماننا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں امریکی جانوں کا نقصان اور حکومت پر مالی بوجھ جائزہے۔ جبکہ ڈیموکریٹس میں،۹۷؍ فیصد نے کہا کہ یہ اخراجات کے قابل نہیں تھی، جبکہ ۸۲؍ فیصد آزاد رائے دہندگان نے بھی یہی کہا۔ بعد ازاں اس بارے میں کہ کیا امریکہ جنگ جیت رہا ہے،۷۰؍ فیصد ریپبلکن نے کہا کہ ہاں، جبکہ ۳۱؍ فیصد آزاد رائے دہندگان اور۱۳؍ فیصد ڈیموکریٹس نے یہی کہا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ واشنگٹن میں شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے
مزید برآں امریکی سوال اٹھا رہے ہیں کہ جنگ کہاں جا رہی ہے،ساتھ ہی سروے تنازعے کی سمت پر غیر یقینی صورتحال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔۷۵؍ فیصد امریکیوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس ایران کی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے، جبکہ۲۵؍ فیصد نے کہا کہ ان کے پاس ہے۔اس سے بھی زیادہ،۷۸؍ فیصد نے کہا کہ ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لیے کافی کچھ نہیں کر رہے۔ اور۶۹؍ فیصد نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مدتی فوجی تنازعہ کا امکان ہے، جن میں ۳۲؍ فیصد نے اسے بہت زیادہ امکان والا سمجھا۔جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ امریکی جانوں کے نقصان اور امریکی حکومت پر مالی بوجھ کے قابل تھی،۷۶؍ فیصد نے کہا کہ نہیں، جبکہ۲۴؍ فیصد نے کہا کہ یہ اخراجات کے قابل تھی۔
علاوہ ازیںسروے میں ٹرمپ کے وسیع تر خارجہ پالیسی کے اعداد و شمار بھی کمزور ہیں۔ صرف۲۹؍ فیصد ان کے خارجہ امور سے نمٹنے کے طریقے کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ۷۱؍ فیصد مخالفت کرتے ہیں۔ یہ جنوری میں۳۹؍ فیصد حمایت اور مارچ میں۳۶؍ فیصد سے کم ہے۔رائے شماری میں یہ بھی پتا چلا کہ صرف۲۰؍ فیصد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے خارجہ پالیسی کے فیصلوں نے عالمی سطح پر امریکہ کی حیثیت کو بہتر بنایا ہے۔ اس کے برعکس،۶۵؍ فیصد کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں نے ملک کی حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے۔