Inquilab Logo Happiest Places to Work

سویڈن: پناہ کے قوانین سخت، پناہ گزینوں کے لیے مستقل رہائشی اجازت نامے ختم

Updated: June 12, 2026, 8:03 PM IST | Stockholm

سویڈن نے پناہ کے قوانین سخت کئے ، ساتھ ہی پناہ گزینوں کے لیے مستقل رہائشی اجازت نامے ختم کردئے، یہ اقدام حالیہ برسوں میں سویڈن کی پناہ کی پالیسی میں سب سے اہم سختیوں میں سے ایک ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سویڈن کی پارلیمنٹ نے منگل کو حکومتی حمایت یافتہ ایک بل کو منظوری دے دی جس کے تحت پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی کئی دیگر اقسام کے لیے مستقل رہائشی اجازت نامے ختم کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام حالیہ برسوں میں سویڈن کی پناہ کی پالیسی میں سب سے اہم سختیوں میں سے ایک ہے۔نئی قانون سازی کے تحت، پناہ کے متلاشیوں اور تارکین وطن کے کچھ دیگر گروپس، قانون۱۲؍ جولائی سے نافذ ہونے کے بعد، صرف عارضی رہائشی اجازت ناموں کے اہل ہوں گے۔ اگرچہ سویڈن میں ۲۰۱۶ء سے عارضی اجازت نامے معمول رہے ہیں، لیکن اس اصلاحات کے تحت نئے درخواست دہندگان کے لیے مستقبل میں مستقل رہائش کا راستہ ختم کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فیفاورلڈ کپ: کھلاڑی حراست میں، ریفریز ملک بدر، امریکی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید

بعد ازاں حکام نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی ماضی پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ جو لوگ پہلے سے مستقل رہائشی اجازت نامہ رکھتے ہیں، ان کی حیثیت برقرار رہے گی۔ واضح رہے کہ یہ بل مرکزی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی طرف سے متعارف کردہ تارکین وطن کی اصلاحات کے ایک وسیع پیکیج کا حصہ ہے، جس نے۲۰۲۲ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کو کم کرنا اور انضمام کی شرائط کو سخت کرنا اپنی مرکزی پالیسی کی ترجیح بنا رکھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سویڈن کے پناہ کے نظام کو مزید قابلِ پیشین گوئی بنانا اور اسے یورپی یونین کے قانون کے کم از کم معیارات کے قریب لانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: ڈجیٹل سیفٹی بل کی تیاری، بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرغور

حکومتی ترجمان نے کہا، ’’تحفظ کی بنیادوں پر سویڈن آنے والے لوگوں کے لیے عارضی رہائش نقطہ آغاز ہونی چاہیے۔ اس سے فرد اور ریاست دونوں کو اجازت نامے کے مقصد اور حدود کے بارے میں وضاحت ملتی ہے۔‘‘اس فیصلے نے پناہ گزینوں کی وکالت کرنے والے گروپوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے شدید تنقید کی ہے، جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے پناہ کے متلاشیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال بڑھے گی اور طویل مدتی انضمام میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مستقل رہائش کا واضح راستہ نہ ہونے سے پناہ گزینوں کے لیے رہائش، روزگار اور سماجی استحکام حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور پر بچوں والے خاندانوں کے لیے۔ جبکہ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سویڈن کا پہلے کا نسبتاً فراخ دل نظام میونسپلٹیوں پر بوجھ بن گیا تھا اور انضمام کے نتائج سست تھے۔
یاد رہے کہ سویڈن نے۲۰۱۵ء میں یورپی تارکین وطن کے بحران کے دوران ریکار۱۶۳۰۰۰ پناہ کی درخواستیں موصول کی تھیں۔ اس کے بعد سے، متواتر حکومتوں نے داخلے کی شرائط، خاندان کے اتحاد کے قوانین، اور نئے آنے والوں کے لیے مراعات کو بتدریج محدود کر دیا ہے۔حکومت نے کہا کہ وہ اس سال کے آخر میں عارضی اجازت ناموں سے منسلک انضمام کی ذمہ داریوں (بشمول زبان اور روزگار کی شرائط) پر اضافی تجاویز پیش کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK