۶۰؍ سالہ جہانگیر شیخ اس طریقے کو اپنا کر مسافروں کو اور خود کو گرمی کی شدت سے راحت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 10:32 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
۶۰؍ سالہ جہانگیر شیخ اس طریقے کو اپنا کر مسافروں کو اور خود کو گرمی کی شدت سے راحت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
گرمی کی شدت سے ہرشخص پریشان ہے اور گرمی سے بچنے کےلئے ہرکوئی اپنے انداز میں کوشش کرتا نظرآتا ہے۔ کچھ لوگ چھتری لے کردھوپ سے بچتے ہیں توکچھ سر اورچہرے پر رومال لپیٹ لیتے ہیں توکچھ دیگر طریقہ اپناتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں وکھرولی میں مقیم آٹو رکشا چلانے والے ۶۰؍ سالہ جہانگیر شیخ جوبالکل الگ انداز میں دیسی جگاڑ اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ آٹو رکشا کی چھت پر لگے پردے کے اوپر اسفنج بچھاکر اوپر سے چادر باندھ کر پانی ڈال دیتے ہیں تاکہ اسفنج اورچادر تَر ہوجائےاوردھوپ کی شدت کا احساس کم ہو سکے۔
اس ترکیب کے اپنانے پر ان کا کہنا ہے کہ گرمی سے کسی قدر راحت محسوس ہوتی ہے ، مسافر اسے پسند کرتے ہیں جبکہ دیگر آٹو رکشا والے بھی تعریف کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرضی دواساز کمپنیوں کی جانچ کیلئے ریاستی حکومت نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی
اس سلسلےمیں نمائندۂ انقلاب نے ان سے استفسار کیا کہ یہ کیا خیال آپ کے ذہن میں کس طرح آیا تو انہوں نے بتایاکہ’’ اس دفعہ گرمی کچھ زیادہ ہی پڑرہی ہے، آٹورکشا میں اے سی تو لگا نہیں سکتے اس لئے خیال گزرا کہ کیوں نہ آٹورکشا کی چھت پرایک سے دو تہ مزید بچھادی جائے تاکہ دھوپ کی شدت کم کرنے میں مدد مل سکے۔اس لئے میں نے پہلے اسفنج بچھایا، اس کےبعد چادر باندھی اور اسے پانی سےبھگا دیتا ہوں۔ اس کے ذریعے چند گھنٹے تک دھوپ کی شدت کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ‘‘
ان کا یہ بھی کہناتھاکہ’’گرمی کی شدت اورگاڑی چلنے کےسبب پانی جلد خشک ہوجاتا ہے، راستے میں اگرموقع ملتا ہے تو پھر تَر کردیتا ہوں ، اس طرح یہ عمل جاری رہتا ہے۔ اس پرکچھ مسافر وں کا یہ کہنا ہوتا ہےکہ ’’چاچا ،آپ کے رکشے میں گرمی کا احساس کم ہوتا ہے، کیوں ؟ اس پرمیں انہیں اپنی یہ ترکیب بتاتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کاغذ کے گودام میں خوفناک آتشزدگی، ۹؍ گودام خاکستر
انقلاب سے بات چیت میں جہانگیرشیخ کایہ بھی کہنا تھا کہ’’ اس سے مجھے خود راحت ملتی ہےاورگاڑی چلانے میں کسی قدر آسانی محسوس کرتا ہوں۔اس کے علاوہ کچھ آٹورکشا ڈرائیور اس کی تعریف کرتے ہیں توکچھ آٹو والے کہتے ہیں کہ چاچا کودیکھو ،کیا آئیڈیا نکالا ہے،واہ۔‘‘
جہانگیر شیخ کا تعلق یوپی سے ہے ، ان کے آباء واجداد برسوں قبل ممبئی آئے تھے اوریہ ممبئی کے ہی ہوکر رہ گئے۔