Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوئزرلینڈ میں آبادی ۱۰؍ملین تک محدود کرنے کی تجویز پر اہم ریفرنڈم

Updated: June 14, 2026, 9:07 PM IST | Genoa

سوئزرلینڈ میں آج ایک اہم ریفرنڈم کے تحت ووٹرز ملک کی آبادی کو۲۰۵۰ء تک۱۰؍ ملین افراد تک محدود رکھنے کی آئینی تجویز پر فیصلہ دے رہے ہیں۔ مبصرین اس ووٹنگ کو بریگزٹ طرز کے ایک اہم سیاسی امتحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کے نتائج امیگریشن پالیسی، معیشت اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سوئزرلینڈ کے ووٹرز آج اتوار کو ایک ایسے مجوزہ منصوبے پر رائے دے رہے ہیں، جس کا مقصد ملک کی آبادی کی زیادہ سے زیادہ حد۱۰؍ ملین افراد مقرر کرنا ہے۔ اس ریفرنڈم کو برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج (بریگزٹ) کیلئے ہونے والے ووٹ سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات معیشت اور برن کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔ یہ آئینی ترمیم دائیں بازو کی جماعت سوئس پیپلز پارٹی نے پیش کی ہے، جس کے مطابق سوئزرلینڈ کی آبادی کو۲۰۵۰ءتک۱۰؍ ملین سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلوٹیلا کا لیک جنیوا پرجی سیون سربراہی اجلاس کے خلاف مظاہرہ

یہ اقدام امیگریشن، عوامی خدمات پر دباؤ اور رہائشی بحران جیسے خدشات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق سوئزرلینڈ کی آبادی آئندہ چند دہائیوں میں غالباً۲۰۴۰ء کی دہائی کے اوائل تک اس حد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تجویز یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کی اس وسیع تر مہم کا حصہ ہے، جس میں امیگریشن پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی وجہ مہنگائی، کمزور معاشی نمو اور جرائم سے متعلق عوامی تشویش بتائی جا رہی ہے۔ زوریخ میں رہائش پذیر کینیا نژاد۵۸؍ سالہ خاتون ہیلن جولی جو جز وقتی طور پر ایک دکان میں کام کرتی ہیں، نے ڈاک کے ذریعے ووٹ دیتے ہوئے کہااگر آبادی۱۰؍ ملین سے بڑھ گئی تو حالات مشکل ہو جائیں گے، اس لئے امیگریشن کو محدود کرنا ضروری ہے۔ اس ووٹنگ کے ابتدائی نتائج مقامی وقت کے مطابق صبح۱۰؍ بجے سے سامنے آنا شروع ہوں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ معاہدہ تیار، اسرائیل گفتگو سے باہر

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے، تو۱۰؍ ملین کی حد تک پہنچنے پر ایسا عمل شروع ہو سکتا ہے، جو سوئزرلینڈ کو یورپی یونین کے ساتھ مزدوروں کی آزاد نقل و حرکت کے معاہدے کو ختم کرنے پر مجبور کر دے گا، جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس ملک کی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔ سوئزرلینڈ کی آبادی پہلے ہی نو ملین سے زائد ہو چکی ہے اور رائے عامہ کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹرز اس معاملے پر شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ حالیہ سروے جو اسی ماہ کیا گیا، میں اس تجویز کی حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے ایک اور سروے میں اس کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ بتائے گئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK