• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شام: فوج نے وائی پی جی دہشت گرد گروہ کو بے دخل کرکے الطبقہ ضلع کا کنٹرول سنبھالا

Updated: January 18, 2026, 6:02 PM IST | Damascus

شامی فوج نے وائی پی جی دہشت گرد گروہ کو بے دخل کر کے رقہ کے اسٹریٹجک الطبقہ ضلع کا کنٹرول سنبھال لیا، سرکاری میڈیا نے بھی اس خبر کی تصدیق کردی۔

Photo: INN
تصویر: ایکس

شامی عرب نیوز ایجنسی (ثنا) کے مطابق، شامی فوج کے آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے اتوار کو بتایا کہ حکومتی افواج نے اس ضلع کو محفوظ بنا لیا ہے اور اسےوائے پی جی دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے۔شامی دفاعی وزارت کے میڈیا اور انفارمیشن محکمہ نے کہا کہ دہشت گرد گروپ کے۴۸۳؍ اراکین نے حکام سے ہتھیار ڈالنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ایک بیان میں اشارہ کیا گیا کہ۱۸۱؍ نے سیکیورٹی فورسیزکے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔اس کے علاوہ، آپریشنز کمانڈ نے ثنا کو بتایا کہ فوج نے فرات ڈیم پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج پر شامی کسانوں کی ۲۵۰؍ بکریاں چرانے کا الزام، تحقیقات شروع

بعد ازاں شامی حکومت نے اعلان کیا کہ دہشت گرد گروپ نے اتوار کی صبح فوج کی پیشقدمی کے بعد شہر سے انخلا سے پہلے قیدیوں کو الطبقہ میں پھانسی دیں۔ثنا کے ذریعے جاری بیان میں، حکومت نے کہا، ’’شامی حکومت الرقہ صوبے کے دیہی علاقے میں واقع شہرالطبقہ میں قیدیوں کو پھانسی دینے کے دہشت گرد کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ گروپوں کے اقدامات کی سخت مذمت کرتی ہے، جو کہ شہر سے انخلا کے بعد کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ قیدیوں اور اسیروں، خاص طور پر ان میں شامل شہریوں کو پھانسی دینا، جنیوا کنونشن کے تحت جرم ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے مخالف ممالک پر ٹیرف کی دھمکی، نیٹو کے ساتھ گفتگو جاری

جبکہ اس بیان میں مزید کہا گیا، ’’یہ مجرمانہ رویہ وائے پی جی کی ملیشیا جیسی نوعیت اور شہریوں اور قیدیوں کو یرغمال بنانے کے اس کے طریقوں کو ظاہر کرتا ہے۔شامی حکومت نے وائے پی جی دہشت گرد گروپ کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا اور متاثرین کے اہل خانہ کے لیے منصفانہ قانونی جوابدہی کا عہد کیا۔اگرچہ وائے پی جی دہشت گرد گروپ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ فرات دریا کے مغرب میں مقبوضہ علاقوں سے مشرقی کنارے کی طرف انخلا کرے گا، لیکن یہ گروپ دریا کے ساتھ کئی علاقوں میں اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔کہا جاتا ہے کہ حکومتی افواج اور دہشت گرد گروپ کے درمیان ان علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں جہاں قبضہ برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK