امریکی قانون سازوں کا ایک وفد جمعہ کو ڈینش دارالحکومت کوپن ہیگن پہنچا۔ اس دورے کا مقصد ڈنمارک اور گرین لینڈ کو یقین دلانا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں امریکہ میں عوامی رائے کی عکاسی نہیں کرتیں۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 7:01 PM IST | Washington/Copenhagen
امریکی قانون سازوں کا ایک وفد جمعہ کو ڈینش دارالحکومت کوپن ہیگن پہنچا۔ اس دورے کا مقصد ڈنمارک اور گرین لینڈ کو یقین دلانا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں امریکہ میں عوامی رائے کی عکاسی نہیں کرتیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ممالک پر ٹیرف عائد کرسکتے ہیں جو آرکٹک خطے پر واشنگٹن کے کنٹرول کی حمایت کرنے سے انکار کریں گے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو اتحادیوں نے خطے میں ڈنمارک کے ساتھ فوجی تعاون مضبوط کرنے کے اقدامات تیز کردیئے ہیں۔ جمعہ کے دن ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکہ کو ’’قومی سلامتی کیلئے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے اشارہ کیا کہ ٹیرف کو گرین لینڈ کے معاملے میں ممالک پر دباؤ بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے دیرینہ مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’’جو ممالک گرین لینڈ کے معاملے پر ہمارا ساتھ نہیں دیں گے تو انہیں اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
ٹرمپ کے ان تبصروں کے بعد یورپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ امریکہ ’’کسی نہ کسی طرح‘‘ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرلے گا۔ انہوں نے اس کیلئے فوجی طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے فروخت یا کنٹرول کی منتقلی کی ہر تجویز کو بارہا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ جزیرہ گرین لینڈ کے باشندوں کی ملکیت ہے اور ڈنمارک کی خودمختاری کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی فوجیں ٹرمپ کے گرین لینڈ کے حصول کے مقصد پر اثر نہیں ڈالیں گی: وہائٹ ہاؤس
’’ہم نیٹو کے ساتھ بات کر رہے ہیں‘‘: ٹرمپ
ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ اب براہِ راست نیٹو (NATO) کے ساتھ گرین لینڈ کے معاملے پر گفتگو کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’نیٹو گرین لینڈ کے معاملے پر ہمارے ساتھ رابطے میں ہے۔ ہمیں قومی سلامتی کیلئے گرین لینڈ کی اشد ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے آرکٹک میں واقع جزیرے کی اہمیت کو وسیع تر دفاعی منصوبہ بندی، جس میں ان کا میزائل ڈیفنس پروجیکٹ ’’گولڈن ڈوم‘‘ بھی شامل ہے، سے جوڑ کر پیش کیا۔ انہوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں لیکن زور دیا کہ گرین لینڈ کی عدم موجودگی، امریکی سیکوریٹی ڈھانچے میں ’’ایک بڑا سوراخ‘‘ چھوڑ دے گی۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تھی۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے بعد میں اس ملاقات کو ’’واضح اور تعمیری‘‘ قرار دیا، لیکن اعتراف کیا کہ ’’بنیادی اختلافات‘‘ بدستور موجود ہیں۔
گرین لینڈ تنازع پر گفتگو کیلئے امریکی وفد ڈنمارک پہنچا
امریکی قانون سازوں کا ایک وفد ڈنمارک کے حکام اور کاروباری لیڈران سے ملاقات کرنے کیلئے جمعہ کو ڈینش دارالحکومت کوپن ہیگن پہنچ گیا ہے۔ اس دورے کا مقصد ڈنمارک اور گرین لینڈ کو یقین دلانا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں امریکہ میں عوامی رائے کی عکاسی نہیں کرتیں۔
ڈیموکریٹک سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ اس دورے کا مقصد ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ دہائیوں پر محیط دوستی کو اجاگر کرنا ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سورین گاڈے نے ٹرمپ انتظامیہ کے لہجے کو ’’غیر مہذب‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ ریپبلکن سینیٹر تھوم ٹِلس نے الحاق کی دھمکیوں کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے گرین لینڈ کی خودمختار حیثیت پر زور دیا۔
ٹرمپ کے گرین لینڈ کیلئے خصوصی ایلچی جیف لینڈری نے کہا کہ وہ مارچ میں جزیرے کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ایک معاہدہ ہو سکتا ہے اور ہو کر رہے گا۔‘‘ اس دوران ڈنمارک کیلئے یورپی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماشاڈو نے اپنا نوبیل انعام ٹرمپ کوپیش کیا، ٹرمپ شکرگزار
جرمنی گرین لینڈ میں مشقوں کیلئے یورو فائٹرز اور بحری طیارے بھیجے گا
دریں اثنا، جرمنی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ میں نیٹو کی مشقوں میں حصہ لے سکتا ہے، جس کیلئے وہ ممکنہ طور پر یورو فائٹر جیٹس، پی-۸ پوسائیڈن جاسوس طیارے اور فریگیٹس جیسے بحری جہاز روانہ کرے گا۔ برلن پہلے ہی ایک فوجی مہم جوئی کی ٹیم گرین لینڈ بھیج چکا ہے تاکہ ڈنمارک کی قیادت میں مستقبل کی مشقوں کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان مشقوں میں ناروے، سویڈن، فن لینڈ، برطانیہ، فرانس اور نیدرلینڈز بھی شامل ہیں۔ جرمن وزیرِ دفاع بورس پسٹوریس نے کہا کہ نیٹو کی مضبوط موجودگی ڈنمارک کی خودمختاری کو نقصان پہنچائے بغیر آرکٹک میں سیکیورٹی خدشات کو دور کرسکتی ہے۔ جرمن وزیرِ خارجہ جوہان وڈفول نے آرکٹک کو ’’نئی سیکوریٹی جہت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کے خلا کو پُر کرنا چاہئے اور اپنی سلامتی کیلئے زیادہ ذمہ داری لینے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔