• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تامل ناڈو کلاسیکی ادب ایوارڈ کی زبانوں کی فہرست میں اردو کو شامل کریں: جواہراللہ

Updated: January 24, 2026, 9:02 PM IST | Chennai

ایم ایل اے جواہراللہ نے تامل ناڈو حکومت سے مطالبہ کیا کہ تامل ناڈو کلاسیکی ادب ایوارڈ کے لیے اہل زبانوں کی فہرست میں اردو کو شامل کریں، انہوں نے کہا کہ اردو کو نظر انداز کرنا ایک ایسی زبان کو نظر انداز کرنا ہے جس کا ثقافتی ورثہ رعظیم اور متنوعہے۔

MLA and Professor MH Jawahirullah . Photo: INN
 ایم ایل اے اور پروفیسر ایم ایچ جواہر اللہ۔ تصویر: آئی این این

 ایم ایل اے اور پروفیسر ایم ایچ جواہر اللہ نے جمعے کے روز تمل ناڈو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کے حال ہی میں اعلان کردہ کلاسیکی ادب ایوارڈ کے لیے اہل زبانوں کی فہرست میں اردو کو  بھی شامل کریں۔ جواہر اللہ مینیتھانیہ مکل کچی پارٹی (ایم ایم کے) کے صدر ہیں، جو حکمران ڈی ایم کے کے اتحادی ہیں۔ایک بیان میں، جواہر اللہ نے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے اعلان کا خیر مقدم کیا جس میں تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم، اڑیا، بنگالی اور مراٹھی زبانوں میں شائع ہونے والے نمایاں ادبی کاموں کے لیے۵؍ لاکھ روپے کے کلاسیکی ادب ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اردو کو نظر انداز کرنا ایک ایسی زبان کو نظر انداز کرنا ہے جس کا ثقافتی ورثہ بھرپور اور مرکب ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کرنل صوفیہ قریشی کی توہین کرنے والے وزیر وجےشاہ یوم جمہوریہ کی تقریب میں ایم پی میں مہمان خاص

بعد ازاںجواہر اللہ نے کہا، ’’اردو ہندوستانی آئین کی آٹھویں شیڈیول میں شامل۲۲؍ زبانوں میں سے ایک ہے۔ پھر بھی، بعض حلقوں کی طرف سے اسے صرف مسلمانوں کی زبان کے طور پر پیش کرنے کی جان بوجھ کر کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک غلط اور گمراہ کن روایت ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اردو ادب کے ارتقاء میں کئی غیر مسلم مصنفین اور شاعروں کا بھی تعاون رہاہے۔ منشی پریم چند کی کہانیوں نے دنیا بھر میں پہچان حاصل کی ہے، جبکہ رگھوپتی سہائے، جو اپنے قلمی نام فراق گورکھپوری سے مشہور ہیں، کی شاعری میں ہمیشہ زبردست مقبولیت رہی ہے۔ ان ادیبوں اور شعراء سے اردو زبان کے جامع اور کثیرالثقافتی ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔
تاہم ایم ایم کے لیڈر نے اردو کے تاریخی ارتقاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’ برطانوی راج سے پہلے تقریباً ۸۰۰؍ سال تک ہندوستان کے بڑے حصوں پر مغل حکمرانوں کی حکومت رہی، جس کے دوران فارسی انتظامیہ کی سرکاری زبان تھی۔ وقت کے ساتھ، فارسی اور عربی کے ساتھ میل جول سے، اردو آہستہ آہستہ ایک الگ زبان کے طور پر وجود میں آئی۔‘‘ ۔ بعد ازاں جواہر اللہ نے ہندی اور اردو کے درمیان لسانی امتیاز پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ،’’ اگرچہ دونوں ایک مشترکہ ثقافتی فضا کا حصہ ہیں، انہوں نے کہا کہ ہندی زیادہ تر سنسکرت کے اثرات کے ساتھ ساتھ فارسی سے بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ اردو بنیادی طور پر فارسی سے تیار ہوئی ہے جس پر عربی کا گہرا اثر ہے۔ اردو فارسی-عربی رسم الخط اور گرامر کے ڈھانچے کی پیروی کرتی ہے، جبکہ ہندی دیوناگری کا استعمال کرتی ہے۔ یہ فرق اردو کی منفرد لسانی شناخت کو واضح کرتے ہیں۔‘‘ساتھ ہی اس کے وسیع استعمال پر زور دیتے ہوئے، جواہر اللہ نے کہا کہ اردو ہندوستان میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، جسے تقریباً ۲۰؍ کروڑ لوگ اپنی مادری زبان مانتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس کی پہنچ خطوں، برادریوں اور ثقافتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ایم ایم کے صدر نے ہندوستانی فنون اور مقبول ثقافت پر اردو کے گہرے اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ،’’ہندی سنیما میں، اگرچہ مکالموں میں زیادہ تر ہندی استعمال ہوتی ہے، جبکہ فلمی گانے زیادہ تر اردو میں لکھے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر پسند کی جانے والی روایات جیسے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی، غزل اور قوالی اردو کے ذریعے فروغ پائی ہیں،‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اردو ہندوستانی کرنسی کے نوٹوں پر چھپی ہوئی زبانوں میں سے ایک ہے اور دہلی اور جموں و کشمیر میں انتظامیہ کی سرکاری زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہے، جو اس کے آئینی اور انتظامی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سنبھل میں جج کا پھر تبادلہ

جواہر اللہ نے کہا،’’ اردو کی قدیم روایت، ادبی فضیلت اور مرکب ثقافتی ورثے کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ دیگر کلاسیکی زبانوں کے ساتھ مکمل طور پر تسلیم کرنے کے قابل ہے،‘‘ اور انہوں نے تمل ناڈو حکومت سے اردو کو کلاسیکی ادب ایوارڈ میں شامل کرنے کی اپیل کی اور امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت تمل ناڈو کی لسانی تنوع اور ثقافتی ہم آہنگی کی طویل روایت کے مطابق ایک ’’وسیع القلب اور جامع‘‘ فیصلہ کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK