Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی پی میٹنگ میں تٹکرے کا غصہ پھوٹ پڑا

Updated: May 28, 2026, 9:45 AM IST | Agency | Mumbai

سونیترا پوار کے سامنے کہا کہ ’’ لوگ مجھے اور پرفل پٹیل کو بدنام کرتے رہے اور پارٹی خاموش رہی‘‘، چھگن بھجبل کے ساتھ بھی تکرار۔

Sunil Tatkare And Chhagan Bhujbal Argued In Front Of Sunitra Pawar.Photo:INN
سنیل تٹکرے اور چھگن بھجبل نے سونیترا پوار کے سامنے ہی بحث کی- تصویر:آئی این این
 بدھ کے روز این سی پی  (اجیت )  کی میٹنگ میں انتہائی ڈرامائی اور جارح بحث ہوئی جس میں جس میں پارٹی کے ریاستی صدر سنیل ٹٹکرے کا غصہ پھوٹ پڑا۔ تٹکرے نے میٹنگ کے دوران گزشتہ کئی دنوں سے دل میں موجود غبار کو باہر نکال دیا۔ انہوں نے نہ صرف پارٹی سربراہ سونیترا پوار کے سامنے اپنی ناراضگی ظاہر کی بلکہ جب سینئر لیڈر چھگن بھجبل انہیں کسی بات پر ٹوکنے لگے تو انہیں بھی کھری کھوٹی سنائی۔ 
اطلاع کے مطابق بدھ کے روز ممبئی میں واقع سونیترا پوار کی رہائش گاہ دیوگیری ( جو پہلے اجیت پوار کی رہائش گاہ کہلاتی تھی) پر این سی پی (اجیت) کی ایک اہم میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میں پرفل پٹیل کو چھوڑ کر  این سی پی کے تقریباً تمام سینئر لیڈران موجود تھے۔ ا س میٹنگ میں پارٹی کو متحد اور مضبوط بنانے کیلئے ممکنہ اقدامات پر غور وخوض کیا جا رہا تھا۔ جب سنیل تٹکرے کی بولنے کی باری آئی تو  انہوں نے خود پر اور پرفل پٹیل پر میڈیا میں ہونے والی تنقیدوں کا معاملہ اٹھایا۔ تٹکرے کا کہنا تھا کہ’’ جب میڈیا میں میرے اور پرفل پٹیل کے تعلق سے باتیں کی جا رہی تھیں تو پارٹی کے ایک بھی لیڈر نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ کسی نے بھی ہماری طرف سے بیان نہیں دیا۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ کیا سارا تٹکرے اور پٹیل کا تھا؟ ہمیں ولن بناکر رکھ دیا گیا۔ ‘‘ یہ ساری باتیں سونیترا پوار کے سامنے ہی ہو رہی تھیں، نیز  ان کے دونوں بیٹے پارتھ پوار اور جے پوار بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے چھگن بھجبل نے یہ کہہ کر سنیل تٹکرے کو روکنے کی کوشش کی کہ ’’ آپ پرانی باتوں کو بھول جائیں اور نئے سرے سے پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے کام کریں۔‘‘ اس پر انہوں نے چھگن بھجبل کو آگے بات کرنے سے روک دیا اور اپنی بات جاری رکھی۔ انہوں نے کہا ’’ جب این سی پی کے دونوں گروہوں کے انضمام کا معاملہ اٹھایا گیا تب بھی میں اور پرفل پٹیل ہی سوالوں کے جواب دے رہے تھے باقی لیڈران خاموش تھے۔ ہم لوگوں پر الزام لگایا گیا کہ ہم پارٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی مگر سب خاموش رہے۔ ‘‘ سنیل تٹکرے نے کہا  کہ’’ اجیت پوار کی موت کے بعد میں نے اور پرفل پٹیل نے سونیترا پوار کو پارٹی کی قیادت کرنے اور تمام اراکین کو متحد رکھنے کیلئے کئی اقدامات کئے جس کا غلط مطلب نکالا گیا اور میڈیا میں ہماری بدنامی کی گئی۔پارٹی کے سارے لیڈران خاموش رہے۔‘‘
 
 
سنیل تٹکرے کی برہمی کی خبر میڈیا میں آتے ہی سیاسی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جانے لگا کہ کیا واقعی این  سی پی ( اجیت ) میں ان دنوں آپسی چپقلش جاری ہے؟ حالانکہ اس معاملے میں خود پارٹی سربراہ سونیترا پوار نے میڈیا کے سامنے آ کر وضاحت پیش کی کہ ’’میڈیا میں پارٹی میٹنگ کے دوران تنازع والی جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ پوری طرح سے بے بنیاد اور حقیقت سے پرے ہیں۔ این سی پی میری قیادت میں پوری طرح متحد ہے اور ہم پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ‘‘ نائب وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا ’’  پارٹی میٹنگ کے دوران ہر کسی نے بالاتفاق پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کرنے کی قرارداد منظور کی۔ ‘‘ سونیترا پوار کے علاوہ خود سنیل تٹکرے نے بھی  میڈیا کو اس تعلق سے صفائی پیش کی۔ انہوں نے کہا ’’میٹنگ کے دوران کوئی تکرار نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ان کے اور چھگن بھجبل کے درمیان کوئی بحث ہوئی۔ تٹکرے نے کہا ’’ ہم پارٹی کے سینئر لیڈران ہیں ہمیں معلوم ہے کہ پارٹی کو کیسے مضبوط کرنا ہے اور ہم وہ کر رہے ہیں۔‘‘  
 
 
این سی پی میٹنگ میں کیاگفتگو ہوئی؟
 ایک روز قبل ممبئی میں ہوئی این سی پی کی میٹنگ سنیل تٹکرے کی ناراضگی کی وجہ سے سرخیوں میں آئی لیکن اس میں پارٹی لیڈران نے کئی اہم معاملات پر گفتگو کی۔ چھگن بھجبل نے واضح کیا کہ ۲۰۲۹ء کے الیکشن میں بی جے پی کا رویہ نہ جانے کیا ہو اس لئے ہمیں ابھی سے ریاست کی تمام ۲۸۸؍ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کرنی چاہئے۔ساتھ ہی یہ بات بھی زیر غور آئی کہ ایس آئی آر کےذریعے بی جے پی اپنے مخالفین کے ووٹروں کے نام حذف کرواسکتی ہے جس میں این سی پی کے  ووٹروں کا بھی ایک بڑا طبقہ متاثر ہوگا اس لئے ایس آئی آر پر نظر رکھی جائے اور اس کام کیلئے بی ایل اے مقرر کئے جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ممکن ہے آئندہ پارلیمانی حلقوں میں اضافے کے سبب ریاست کی اسمبلی سیٹوں میں بھی اضافہ ہو۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اسمبلی حلقوں کے بدلتے ہوئے جغرافیہ پر بھی توجہ دینی ہوگی اور اسی حساب سے الیکشن کی تیاری کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ کارکنان کو پارٹی میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میٹنگ میں بی جے پی کے تئیں عدم اعتماد بھی نظر آیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK