یہ مسئلہ اس وقت عوامی توجہ کا مرکز بنا جب مسافروں نے ایئرپورٹ پر لگے ایک نوٹس کی تصاویر شیئر کیں جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ جیو، ایئرٹیل اور وی آئی کے موبائل سگنلز دستیاب نہیں ہوسکتے، لہذا مسافر ایئرپورٹ کے فری وائی فائی پر انحصار کریں۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai
یہ مسئلہ اس وقت عوامی توجہ کا مرکز بنا جب مسافروں نے ایئرپورٹ پر لگے ایک نوٹس کی تصاویر شیئر کیں جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ جیو، ایئرٹیل اور وی آئی کے موبائل سگنلز دستیاب نہیں ہوسکتے، لہذا مسافر ایئرپورٹ کے فری وائی فائی پر انحصار کریں۔
ملک کی ٹیلی کام کمپنیوں نے اڈانی گروپ کے زیرِ انتظام نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الزام عائد کیا کہ نوتعمیر شدہ ایئرپورٹ پر ان کے نیٹ ورک سسٹم کو بلاک کیا جارہا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق، ایئرپورٹ انتظامیہ موبائل نیٹ ورک کی تنصیب کو روک رہا ہے اور ایسی شرائط مسلط کر رہا ہے جنہیں کمپنیوں نے اجارہ داری اور ”بھتہ خوری“ سے تعبیر کیا۔ اس صورتحال کے بعد کمپنیوں نے مرکزی حکومت سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
`دی ہندو` کی ایک رپورٹ کے مطابق، ریلائنس جیو، بھارتی ایئرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا (وی آئی) کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ (سی او اے آئی) نے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کو خط لکھ کر الزام لگایا کہ `نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ` نے ایئرپورٹ پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر نصب کرنے کیلئے ضروری ’رائٹ آف وے‘ (Right of Way) اجازت نامے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ اجازت نامہ، ٹیلی کام کمپنیوں کو عوامی یا نجی زمین پر انفراسٹرکچر لگانے کا اختیار دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئے سال میں ویسٹرن ریلوے کے مسافروں کو ۱۸؍جنوری تک مشکلات
سی او اے آئی نے الزام لگایا کہ منظوری دینے کے بجائے ایئرپورٹ انتظامیہ، ٹیلی کام کمپنیوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ کے اپنے نصب کردہ واحد ’ان بلڈنگ سلوشن‘ (آئی بی ایس) نیٹ ورک کو استعمال کریں، جس کے چارجز تجارتی طور پر ناقابلِ عمل بتائے گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ ایئرپورٹ نے ہر آپریٹر سے تقریباً ۹۲ لاکھ روپے ماہانہ کا مطالبہ کیا ہے، جو سرکاری کمپنی بی ایس این ایل (بی ایس این ایل) سمیت چار آپریٹرز کیلئے سالانہ ۴۴ کروڑ روپے سے زیادہ بنتے ہیں۔ سی او اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ اخراجات اس سرمائے سے بہت زیادہ ہیں جو عام طور پر ایک آزاد آئی بی ایس نیٹ ورک کی تنصیب کیلئے درکار ہوتے ہیں۔
سی او اے آئی کا موقف ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ ۲۰۲۳ء اور رائٹ آف وے رولز ۲۰۲۴ء کے تحت ایئرپورٹ ایک عوامی ادارہ ہے، اس لئے وہ قانونی طور پر پابند ہے کہ بغیر کسی امتیاز کے اور مقررہ وقت کے اندر اجازت نامے جاری کرے۔ تنظیم نے آپریٹر پر غیر قانونی اجارہ داری قائم کرنے کا الزام لگایا جو مقابلے کی فضا اور صارفین کے انتخاب کے حق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
دوسری جانب، نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ ایک حساس علاقہ ہے اور مرکزی طور پر منظم آئی بی ایس نیٹ ورک ٹرمینل کے اندر بہتر دیکھ بھال، سیکوریٹی اور بلاتعطل کنیکٹیویٹی کو یقینی بناتا ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت عوامی توجہ کا مرکز بنا جب مسافروں نے ایئرپورٹ پر لگے ایک نوٹس کی تصاویر شیئر کیں جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ جیو، ایئرٹیل اور وی آئی کے موبائل سگنلز دستیاب نہیں ہوسکتے، لہذا مسافر ایئرپورٹ کے فری وائی فائی پر انحصار کریں۔