Updated: June 09, 2026, 3:16 PM IST
| Mumbai
رکشہ ڈرائیور کی ایمانداری کی پزیرائی، مسافر ایک کمپنی کا سی ای او تھا اور میٹنگ میں جانے کی جلدی میں اس نے غلطی سے زائد رقم دے دی تھی۔
رکشہ ڈرائیور کی علامتی تصویر۔ تصویر:آئی این این
ملک میں مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوششوں کے بیچ عوام بار بار یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ مذہب و ملت کی تفریق کے بغیر ایمانداری اور ایک دوسرے کے تئیں محبت اور حفاظت کا جذبہ ہندوستانیوں میں ہنوز برقرار ہے۔ حال ہی میں دہلی کے ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ سےلوگوں کو بچانے کے لئے مسلمانوں نے اپنی جان اور مال کی بازی لگادی۔ ایسا ہی ایک قابل ستائش کارنامہ ممبئی میں ایک رکشا ڈرائیور نے انجام دیاہے۔
الطاف کے رکشہ میں شبھم جو ایک کمپنی کے سی ای او ہیں، سوار ہوئے۔ انہیں میٹنگ کی جلدی تھی اس لئے رکشہ سے اترتے ہوئے کرایہ پوچھا اور ڈیڑھ سو روپے گوگل پے کردیا مگر جلد بازی میں ۱۵۶؍ روپے کی جگہ انہوں نے ۱۵۶۸۲؍ روپے بھیج دیئے۔ یعنی ۱۵؍ ہزار سے زائد۔ ڈیڑھ سو روپے کی جگہ اتنی بڑی رقم دیکھ کر الطاف حیران رہ گیا اور اُس شخص کے لوٹنے کے انتظار میں وہیں کھڑا رہا اور اسے پوری رقم لوٹائی۔اس نے مسافرکےاصرار کے باوجود رکشہ کا کرایہ بھی نہیں لیا۔الطاف کے اس حسن سلوک سے شبھم اس قدر متاثر ہوا کہ لنکڈ اِن پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعہ پورا واقعہ بیان کیاجہاں الطاف کی کھل کر پزیرائی ہورہی ہے ۔
ہنگلش نامی کمپنی کے بانی اور سی ای او شبھم گونے بتایا کہ انہیں ایک غیر ملکی شہری کے ساتھ صبح۷؍بجے ضروری میٹنگ کیلئے پہنچنا تھا کسی وجہ سے اسے دیر ہوگئی تھی۔ شبھم نےالطاف کا رکشہ لیا اور منزل پر پہنچ کر ۱۵۶؍روپےکرایہ اداکرنے کے بجائے۱۵؍ہزار ۶۸۲؍ روپے ٹرانسفر کرتے ہوئے کلائنٹ سے ملنے کیلئے آفس کیلئے نکل گیا۔ شبھم کے مطابق تجارتی میٹنگ ناکام رہی اور جب وہ مایوس ہوکر دفتر سے نکلا تو دیکھا کہ وہی رکشہ ڈرائیور بلڈنگ کے گیٹ پر اس کا انتظار کررہا ہے۔رکشہ ڈرائیورالطاف نے اسے بتایا کہ اس نے۱۵؍ہزار سے زائد رقم اسے گوگل پے کردی ہے جبکہ شبھم اب تک اس بات سے لاعلم تھا۔ الطاف نے نہ صرف متاثرہ کی پوری رقم لوٹائی بلکہ شبھم کے بے حداصرار پر بھی رکشہ کا کرایہ تک نہیں لیا اور چلا گیا جبکہ شبھم نے اسے اتنی دیر انتظار کرنے اورکئی کرائے کا نقصان ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے رقم دینے کی کوشش کی۔ جاتے وقت الطاف نے شبھم سے کہا کہ ’’ابھی تو ہمارے دن کا آغاز ہوا ہے۔‘‘
شبھم نے مزید تحریر کیا کہ’’ ایک ہفتہ بعد اسی غیر ملکی نے میری کمپنی کے ساتھ کام کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ۔ تب مجھے فوراً ایماندار الطاف کا جاتے وقت کہا گیا جملہ یاد آگیا اور میں نے فوراً اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کی تعریف کرنے کے ساتھ ۵؍سو روپے گوگل پے بھی کردیئے جو یقینا اس کی ایمانداری کے آگے بہت چھوٹی رقم ہے۔‘‘لکنڈ ان پر ایک آٹو رکشہ ڈرائیور الطاف کے حسن سلوک اور ایمانداری کی تحریر کردہ رودادپر شہری بھی عش عش کر اٹھے اور انہوں نے شوشل میڈیا پر اس کی خوب پذیرائی کی ۔شوشل میڈیا پر کسی نے لکھا’’الطاف جیسے لوگ ہی ہیں جن کی وجہ سے انسانیت پر اب بھی یقین کیا جاسکتا ہے۔‘‘کسی نے اسے گنگا جمنی تہذیب کی زندہ مثال قرار دیا تو کسی نے اسے انسانیت اور ایمان کی پختگی سے تشبیہ دی۔