Updated: September 29, 2026, 9:34 PM IST
| Dubai
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنے ایک جذباتی خط میں بانیٔ متحدہ عرب امارات شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کو استاد، قائد اور والد قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ زاید کی قیادت میں قائم ہونے والا متحدہ عرب امارات آج ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں پر پہنچ چکا ہے، تاہم اس کی اقدار اور شناخت آج بھی اپنے بانی کی عکاسی کرتی ہیں۔
شیخ محمد بن راشد آل مکتوم، شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے ساتھ خوشگوار موڈ میں۔ تصویر: آئی این این
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگی کے چار دہائیوں پر محیط سفر میں اپنا استاد، قائد اور تحریک کا سرچشمہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ متحدہ عرب امارات نے بے مثال ترقی کی ہے، لیکن آج بھی اپنے بانیِ وطن کی اقدار سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ شیخ محمد بن راشد نے شیخ زاید کے نام ایک خط میں انہیں صرف اپنا ہی نہیں بلکہ اماراتی عوام، قائدین، یتیموں اور غریبوں کا بھی باپ قرار دیا۔
انہوں نے لکھا، ’’یہ خط میرے اس استاد، قائد اور تحریک کے سرچشمے کے نام ہے، جو میری زندگی کے چار دہائیوں تک میرے لئے باعثِ رہنمائی رہے۔ یہ خط میرے والد اور اماراتیوں کے والد، قائدین اور صدور کے والد، یتیموں اور غریبوں کے والد کے نام ہے۔ ‘‘شیخ محمد نے شیخ زاید کو ایسا قائد قرار دیا جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سنوارا اور جن کی دانائی اور سیاسی بصیرت ان کے انتقال کے کئی برس بعد بھی اپنا اثر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے والد زاید! میرا پیغام آپ کے نام ہے: متحدہ عرب امارات ترقی کر چکا ہے، لیکن آج بھی آپ ہی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ‘‘شیخ محمد نے خط میں اس ملک کی غیر معمولی ترقی کا ذکر کیا جس کی تعمیر میں شیخ زاید نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے وہ دور یاد کیا جب متحدہ عرب امارات ایک چھوٹا ملک تھا اور اس کے وسائل بھی محدود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور
انہوں نے لکھا، ’’زاید! آپ کا ملک کس قدر ترقی کر گیا ہے، بالکل ویسا ہی جیسا آپ چاہتے اور اس کی خواہش رکھتے تھے۔ ‘‘ انہوں نے ترقی کے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت وسائل کم تھے، سڑکیں محدود تھیں اور بنیادی ڈھانچہ ابھی تشکیل پا رہا تھا۔ شیخ محمد نے یاد کیا کہ شیخ زاید نے اسکولوں، جامعات، سڑکوں اور اسپتالوں کی تعمیر کیلئے بھرپور عزم کے ساتھ کام کیا اور ان کا پختہ یقین تھا کہ ملک کے وسائل عوام کی خدمت کیلئے استعمال ہونے چاہئیں۔ خط میں متحدہ عرب امارات کی ترقی کو محض معاشی تبدیلی قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے ایک ایسے نظریے کی تکمیل بتایا گیا ہے جس کی بنیاد شیخ زاید کے عوام پر اعتماد اور ایک متحد قوم کی تعمیر کے عزم پر قائم تھی۔
ایک ایسا اتحاد جو قائم رہا
شیخ محمد نے متحدہ عرب امارات کے اتحاد کے قیام کو بھی یاد کیا اور اسے ایک ایسی کامیابی قرار دیا جو ان خدشات کے برخلاف ثابت ہوئی کہ شاید یہ نوزائیدہ ملک زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکے۔ انہوں نے وفاق کے ابتدائی دور کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیخ زاید کو اس بات پر غیر متزلزل یقین تھا کہ اتحاد تمام امارات کو مضبوط بنائے گا۔ آج متحدہ عرب امارات ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس کی ترقی اور کامیابیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ شیخ زاید کی قائم کردہ وفاقی وحدت آج بھی ملک کی طاقت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ نائب صدر کے مطابق ملک نے اپنی ابتدائی حالت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی کی ہے، لیکن جن اصولوں پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہ آج بھی برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے
ہم نے آپ سے سیکھا
خط کا سب سے اہم پہلو وہ اسباق ہیں جن کے بارے میں شیخ محمد کہتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کی نسل کے قائدین نے شیخ زاید سے سیکھے۔ انہوں نے یاد کیا کہ انہیں یہ سبق ملا کہ قیادت دراصل عوام کی خدمت کا نام ہے، قوم اتحاد اور محنت سے بنتی ہے اور ترقی کا اصل مقصد انسانی وقار اور فلاح و بہبود ہونا چاہئے۔ انہوں نے شیخ زاید کی سخاوت، رواداری اور انسان دوستی کی اقدار کو بھی اجاگر کیا اور ان کے اس یقین کا ذکر کیا کہ ترقی کبھی شناخت اور انسانیت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے۔ خط کے مطابق یہ اصول آج بھی متحدہ عرب امارات میں نمایاں ہیں اور ملک انہی بنیادوں پر اپنی ترقی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہم مزید مضبوط ہوئے
شیخ محمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات زیادہ مضبوط، خوشحال اور بااثر ملک بن چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بانیانِ وطن کی عطا کردہ اقدار آج بھی برقرار ہیں۔ انہوں نے ایسے ملک کی تصویر پیش کی جو اپنے عزائم کو وسعت دے چکا ہے، عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر چکا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی حیثیت مضبوط کر چکا ہے، جبکہ وہ ان اصولوں پر متحد ہے جن پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ خط میں متحدہ عرب امارات سے باہر بھی شیخ زاید کے نظریات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں عرب یکجہتی، انسان دوستی اور قومیت یا پس منظر سے قطع نظر ضرورت مندوں کی مدد کرنا شامل تھا۔ شیخ محمد نے خط کا اختتام انتہائی جذباتی انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن شیخ زاید کی موجودگی آج بھی اس کے عوام، اداروں اور اقدار میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ متحدہ عرب امارات عالمی مقام رکھنے والی ایک عظیم قوم بن چکا ہے، لیکن اس کے دل میں آج بھی ’’آپ ہی کی جھلک نظر آتی ہے۔ ‘‘دریں اثنا، کتاب ’’دی لیٹرز‘‘ کا عربی ایڈیشن یکم اکتوبر سے متحدہ عرب امارات کی بڑی کتابوں کی دکانوں میں دستیاب ہوگا۔ یہ کتاب ’’لیسنز فرام لائف‘‘ کا دوسرا حصہ ہے، جبکہ اس کا انگریزی ایڈیشن۱۵؍ اکتوبر کو جاری کیا جائے گا۔