Updated: August 19, 2026, 10:23 AM IST
| New Delhi
رشوت ستم سے متعلق شکایات درج کرنے کیلئے ہندوستان میں ایک نیا آن لائن پلیٹ فارم bribes.fyi، سامنے آیا ہے، جہاں شہری رشوت کی رقم، متعلقہ محکمہ اور افسر کی تفصیلات رپورٹ کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق اب تک ۲۵۳؍شہروں سے۶۱۷؍ شکایات درج ہوچکی ہیں، جن میں پولیس کے خلاف سب سے زیادہ۳۳۶؍ معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ایک نئی ویب سائٹ، bribes.fyi، ایک ایسے عوامی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی ہے جہاں لوگ مبینہ طور پر رشوت طلب کئے جانے کے واقعات کی گمنام طور پر اطلاع دے سکتے ہیں۔ صارفین رشوت کی طلب کی گئی رقم، متعلقہ محکمہ اور متعلقہ افسر کے عہدے سمیت تفصیلات درج کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ خود کو ہندوستان کی پہلی ایسی عوامی رشوت رجسٹری قرار دیتی ہے جو مکمل طور پر گمنام اور مستقل طور پر عوام کیلئے دستیاب ہے۔ یہ پلیٹ فارم موصول ہونے والی اطلاعات کو تین اہم حصوں : رپورٹس، محکمے اور شہر، میں ترتیب دیتا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین مختلف محکموں میں رپورٹ کئے گئے رشوت کے معاملات کا موازنہ بھی کر سکتے ہیں، جس سے پلیٹ فارم پر درج شکایات کا مجموعی جائزہ ملتا ہے۔
ویب سائٹ پر درج محکموں میں پولیس، آر ٹی او، محکمہ محصولات/اراضی ریکارڈ، پاسپورٹ دفتر، میونسپل کارپوریشن، جی ایس ٹی دفتر، بجلی بورڈ، محکمہ انکم ٹیکس اور محکمہ خوراک و ادویات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: این ڈی اے میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں، اپوزیشن میں رہ کر کام کریں گے : شرد پوار کی وضاحت
Bribes.fyi پر رشوت کی تازہ ترین رپورٹ
ویب سائٹ پر درج تازہ ترین رپورٹس میں سے ایک میں پونے کے پولیس محکمہ کی جانب سے مبینہ طور پر۲؍ ہزار روپے رشوت طلب کئےجانے کا معاملہ شامل ہے۔ رپورٹ درج کرنے والے شخص نے الزام لگایا کہ اس سے یہ رقم ادا کرنے کو کہا گیا اور لکھا: ’’متعدد بار دفتر کے چکر لگانے اور غیر ضروری تاخیر سے بچنے کیلئے ’تتکال‘ راستہ اختیار کرنے کو کہا گیا، جس کی قیمت۲۵۰۰؍ روپے ہے۔ ‘‘
رشوت کا ڈیٹا:۲۵۳؍ شہروں سے۶۱۷؍رپورٹس
Bribes.fyi پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، ۲۵۳؍شہروں سے رشوت سے متعلق۶۱۷؍ رپورٹس درج کی گئی ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق، رشوت طلب کئے جانے کی اطلاع دینے والے۳۷؍ فیصد افراد نے رشوت دینے سے انکار کیا، تاہم اس کے باوجود ان کا کام ہو گیا۔ درج کئے گئے محکموں میں پولیس کے خلاف سب سے زیادہ۳۳۶؍ شکایات ہیں۔ اس کے بعد آر ٹی او کے۸۹؍، محکمہ محصولات/اراضی ریکارڈ کے۶۹؍، پاسپورٹ دفتر کے ۴۳؍ اور میونسپل کارپوریشن کے۲۹؍ معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ میں طلبہ کی بڑی کامیابی، مطالبات تسلیم، امتحان منسوخ، جشن کا ما حول
کرناٹک میں مبینہ رشوت کے سب سے زیادہ معاملات رپورٹ
پلیٹ فارم پر درج ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کرناٹک میں مبینہ رشوت کے سب سے زیادہ۱۳۵؍ معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں ۸۳؍ اور اتر پردیش میں ۶۹؍ رپورٹس ہیں۔ دہلی میں ۴۷؍ رپورٹس درج کی گئی ہیں، جبکہ تلنگانہ اور ہریانہ میں بالترتیب۳۶؍ اور۳۴؍ معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال میں ۳۲؍رپورٹس ہیں، اس کے بعد تمل ناڈو میں ۲۷؍ رپورٹس ہیں۔ آندھرا پردیش اور بہار میں ۲۶، ۲۶؍ رپورٹس درج کی گئی ہیں۔
جموں کشمیر میں اوسط رشوت کی رقم سب سے زیادہ
اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں رپورٹ کی گئی رشوت کی اوسط رقم سب سے زیادہ۱۹۰۶۷؍روپے ہے، جو چھ رپورٹس کی بنیاد پر ہے۔ چھتیس گڑھ ۱۳؍ ہزارروپے کی اوسط کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جہاں دو رپورٹس درج کی گئی ہیں، جبکہ مہاراشٹر میں ۸۳؍رپورٹس کی بنیاد پر رشوت کی اوسط رقم۱۰ہزار ۲۳۸؍ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مظفر نگر فساد کےملزمین سے مقدمات واپس لینا ملک و سماج کیلئے خطرہ‘‘
آسام میں رشوت سے انکار کی شرح سب سے زیادہ
ویب سائٹ کے مطابق درج ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں آسام میں رشوت دینے سے انکار کی شرح سب سے زیادہ۱۰۰؍ فیصد ہے۔ تاہم یہ شرح صرف ایک رپورٹ پر مبنی ہے اور ریاست کیلئے رشوت کی اوسط رقم درج نہیں کی گئی ہے۔ گوا اور اتراکھنڈ۳۳، ۳۳؍ فیصد انکار کی شرح کے ساتھ اس کے بعد ہیں، جہاں ہر ریاست سے تین، تین رپورٹس درج کی گئی ہیں۔ آندھرا پردیش میں ۲۶؍ رپورٹس کی بنیاد پر انکار کی شرح۲۳؍ فیصد ہے، جبکہ راجستھان میں ۱۷؍ رپورٹس کے ساتھ یہ شرح۱۸؍ فیصد ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار۱۷؍ اگست تک ویب سائٹ پر دستیاب معلومات پر مبنی ہیں۔ ہندوستان ٹائمز ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔