سڈنی کے مضافات میں واقع لکیمبا مسجد کو رمضان المبارک کے دوران دھمکی آمیز خط موصول ہوا، جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 10:08 PM IST | Sydney
سڈنی کے مضافات میں واقع لکیمبا مسجد کو رمضان المبارک کے دوران دھمکی آمیز خط موصول ہوا، جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد، لکیمبا مسجد کو ماہِ رمضان کے دوران ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے، جس کے بعد حکام نے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خط میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس سے چند ہفتے قبل مسجد کو ایک ای میل بھی موصول ہوئی تھی، جس میں مسجد کو جلتے ہوئے دکھانے والی تصویر شامل تھی۔نیو ساؤتھ ویلس پولیس فورس نے بتایا کہ خط کو فورنسک جانچ کیلئے بھیج دیا گیا ہے اور مسجد سمیت دیگر مذہبی مقامات اور اجتماعی تقریبات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیرو: نئے عبوری صدر کا انتخاب، جوز بالکازر ۲۸؍ جولائی تک عہدے پر
رپورٹ کے مطابق، مسجد کے عملے کو دھمکی آمیز ای میل بھیجنے کے الزام میں ایک ۷۰؍ سالہ شخص کو گرفتار کر کے اس پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مسجد کو چلانے والی البانیز مسلم اسوسی ایشن نے آسٹریلوی حکومت سے اپیل کی ہے کہ سیکیورٹی کیلئے اضافی گارڈز تعینات کئے جائیں اور مزید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کیلئے فنڈز فراہم کیے جائیں۔ آسٹریلیائی محکمہ برائے شماریات کے مطابق لکیمبا کے علاقے میں ۶۰؍ فیصد سے زائد مسلمان رہائش پذیر ہیں، اور رمضان کے دوران ہر رات تقریباً ۵؍ ہزار افراد کی مسجد میں آمد متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: یورو فلسطین کی اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی درخواست
کینٹربری بینک ٹاؤن کونسل کے میئر بلال الحائق نے کہا کہ حالیہ دھمکیوں کے بعد مسلم کمیونٹی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتونی البانیز نے بھی ان دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے مذہبی مقامات کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ء کے آخر میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد آسٹریلیا میں مسلمان مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔