• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہائٹ ہاؤس میں داخلہ پر پابندی کیخلاف ۳؍ میڈیا ادارے ٹرمپ پرمقدمہ کرینگے

Updated: September 22, 2026, 4:32 PM IST | Agency | Washington

سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کوقانونی چارہ جوئی سے آگاہ کردیا ہے، پابندی کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی قراردیا۔

Trump has described it as action against fake news. Photo: INN
ٹرمپ نے اسے فیک نیوز کیخلاف کارروائی قراردیا ہے۔ تصویر: آئی این این
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے پیر کو کہا کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تینوں میڈیا اداروں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کریں گے۔ تینوں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ان نیوز اداروں نے کہا کہ انہوں نے انتظامیہ کو قانونی کارروائی سے آگاہ کر دیا ہے اور وہائٹ ہاؤس میں اپنے صحافیوں کی رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ سنیچر کو تینوں اداروں کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا اور ان کے پریس سرٹیفکیٹس منسوخ کر دیے گئے تھے۔مقدمہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر کیا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر اسی ہفتے ہنگامی سماعت بھی ہو سکتی ہے۔تینوں نیوز اداروں نے اپنی قانونی درخواست میں کہا ہے کہ پہلی ترمیم پر اس سے زیادہ براہ راست حملہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ امریکی تاریخ میں صدور نے پریس کی کوریج پر تنقید تو کی ہے لیکن نیوز اداروں کو سرکاری عمارتوں سے خارج کرنے کی کوشش نہیں کی۔
 
 
ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے ٹروتھ سوشل  اکاؤنٹ پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر افسانے اور جھوٹ شائع کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ دیگرجعلی خبریں دینے والے میڈیا اداروں کو بھی ایسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس فیصلے کے وقت کا کوئی خاص سبب نہیں تھا اور اشارہ دیا کہ یہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں کسی کو آ کر جعلی خبریں لکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ جعلی خبریں ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اب اگر وہ یہ خبریں لکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، لیکن مجھے انہیں اپنے-عوام کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینا ضروری نہیں۔
رپورٹرز کمیٹی فار فریڈم آف دی پریس کے صدر بروس براؤن نے پابندی کو  صاف طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کو روکنا نقطۂ نظر کی بنیاد پر امتیاز کے مترادف ہے۔یہ تنازع ٹرمپ انتظامیہ اور نیوز اداروں کے درمیان رسائی کے معاملے پر جاری کشیدگی کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
 
 
گزشتہ سال ٹرمپ نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس کی بعض تقریبات میں شرکت سے روک دیا تھا، جب نیوز ایجنسی نے خلیج میکسیکو کیلئے ان کی پسندیدہ اصطلاح  گلف آف امریکہ استعمال کرنے سے انکار کیا تھا۔ اے پی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ایک وفاقی جج نے وہائٹ ہاؤس کو اے پی کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا، تاہم بعد میں ایک اپیل عدالت نے اوول آفس اور ایئر فورس ون سمیت بعض محدود مقامات پر پابندیوں کو برقرار رکھنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ صحافیوں کو محض ان کے نقطۂ نظر کی بنیاد پر ان مقامات سے نکالا نہیں کیا جا سکتا جو عمومی طور پر پریس کے لیے کھلے ہیں، جیسے بریفنگ روم۔بعد ازاں انتظامیہ نے صدارتی پریس پول کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK