Updated: August 04, 2026, 12:06 PM IST
| London
دنیا بھر میں راکٹ لانچز اور سیٹیلائٹ کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث خلائی ملبہ (Space Junk) زمین پر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رفتار سے واپس گر رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اب تقریباً ایک میٹرک ٹن وزنی خلائی ملبہ اوسطاً ہر سات دن بعد زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلائی ملبے کو محدود کرنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں فضائی سفر، سیٹیلائٹ اور زمینی آبادیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والے ناکارہ سیٹیلائٹ، استعمال شدہ راکٹوں کے حصے اور دیگر مصنوعی خلائی ملبے کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں اب اوسطاً ایک میٹرک ٹن وزنی خلائی ملبہ ہر ہفتے دوبارہ زمین کے ماحول میں داخل ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران راکٹ لانچز اور تجارتی سیٹیلائٹ منصوبوں میں غیر معمولی اضافے نے اس مسئلے کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت زمین کے مدار میں ۱۰؍ سینٹی میٹر سے بڑے تقریباً ۳۶؍ ہزار خلائی ملبے کے ٹکڑوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے، جبکہ کروڑوں چھوٹے ذرات بھی مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ ان تمام اشیا کا مجموعی وزن تقریباً ۱۳۴۸۶؍ ٹن تک پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان زلزلہ:۶۹؍ ہزار سے زائد گھروں اور تجارتی اداروں میں پانی کی قلت
پولش اسپیس ایجنسی میں اسپیس سیچویشنل اویئرنیس آپریشنز کے سربراہ ماریوش سلونینا (Mariusz Slonina) نے کہا کہ ’’خلائی اشیا کی دوبارہ واپسی ہر روز ہوتی ہے۔ تقریباً ایک میٹرک ٹن یا اس سے زیادہ وزنی اشیا اوسطاً ہر ہفتے زمین کے ماحول میں واپس آتی ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیس فورس نے گزشتہ سال زمین کے ماحول میں داخل ہونے والی تقریباً ۸۲۰؍ اشیا کے بارے میں انتباہات جاری کیے، جبکہ دس برس قبل یہ تعداد صرف ۱۱۰؍ تھی۔ اسی عرصے میں سالانہ راکٹ لانچز کی تعداد بھی بڑھ کر ۳۰۰؍ سے زیادہ ہو گئی، جو ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔
حالیہ برسوں میں کئی واقعات نے اس خطرے کو نمایاں کیا ہے۔ دسمبر میں کینیا کے ایک زرعی علاقے میں ایک بڑا دھاتی راکٹ حصہ گرنے سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن ماہرین کے مطابق ایسے واقعات مستقبل میں زیادہ عام ہو سکتے ہیں۔ خلائی ملبہ صرف زمین پر گرنے کی صورت میں ہی خطرہ نہیں بنتا بلکہ مدار میں بھی یہ تیز رفتاری سے گردش کرتے ہوئے فعال سیٹیلائٹ اور خلائی مشنوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ کم زمینی مدار (Low Earth Orbit) میں یہ ملبہ تقریباً ۷؍ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتا ہے، اور کسی بھی تصادم کی صورت میں مزید ہزاروں نئے ٹکڑے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال کو ماہرین ’’کیسلر سنڈروم (Kessler Syndrome)‘‘ کہتے ہیں، جس میں ایک تصادم مزید تصادموں کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک کو سخت انتباہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے مدار میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ خلائی ملبے سے محفوظ رہ سکے۔ موجودہ طریقہ یہ ہے کہ زیادہ تر ناکارہ سیٹیلائٹ کو زمین کے ماحول میں واپس لا کر جلنے دیا جائے، تاہم تمام بڑے حصے مکمل طور پر جل نہیں پاتے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ SpaceX، Blue Origin اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے ہزاروں نئے سیٹیلائٹ لانچ کیے جانے کے منصوبوں کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۳۵ء تک صرف اسٹارلنک سیٹیلائٹ سے واپس آنے والا ملبہ زمین پر موجود افراد یا فضائی ٹریفک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
خلائی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایسے سخت قوانین نافذ کیے جائیں جن کے تحت نئے خلائی جہاز اور سیٹیلائٹ ایسے مواد سے تیار کیے جائیں جو زمین کے ماحول میں داخل ہوتے وقت مکمل طور پر جل جائیں، تاکہ انسانوں، فضائی سفر اور زمینی تنصیبات کے لیے خطرات کم کیے جا سکیں۔