Updated: March 23, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
شارک ٹینک انڈیا کے پانچویں سیزن کا اختتام اس ہفتے ایک خصوصی کیمپس ایپی سوڈ کے ساتھ ہوا، جس کے ساتھ ہی ایک پُرجوش سیزن اپنے اختتام کو پہنچا جس میں درجنوں کاروباری افراد نے اپنے آئیڈیاز پیش کیے۔ اس سیزن میں ۱۵۲؍ پیشکشوں میں سے ۷۳؍ اسٹارٹ اپس نے فنڈنگ حاصل کی۔
شارک ٹینک۔ تصویر:آئی این این
شارک ٹینک انڈیا کے پانچویں سیزن کا اختتام اس ہفتے ایک خصوصی کیمپس ایپی سوڈ کے ساتھ ہوا، جس کے ساتھ ہی ایک پُرجوش سیزن اپنے اختتام کو پہنچا جس میں درجنوں کاروباری افراد نے اپنے آئیڈیاز پیش کیے۔ اس سیزن میں ۱۵۲؍ پیشکشوں میں سے ۷۳؍ اسٹارٹ اپس نے فنڈنگ حاصل کی جبکہ مجموعی سرمایہ کاری۸۸ء۹۴؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ سرمایہ کاروں میں امن گپتا، نمیتا تھاپر اور انوپم مِتّل سب سے زیادہ سرگرم رہے، جنہوں نے سیزن بھر میں متعدد کاروباری منصوبوں کی حمایت کی۔
اہم سرمایہ کار اور ڈیلز کی تعداد
سیزن کی سرمایہ کاری رپورٹ کے مطابق، امن گپتا۲۳؍ اسٹارٹ اپس میں ۶ء۲۴؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ سرفہرست رہے اور اس سیزن کے سب سے متحرک شارک ثابت ہوئے۔ کنال باہل نے۱۴؍ منصوبوں میں۸۳ء۱۳؍کروڑ روپے لگا کر دوسرا مقام حاصل کیا۔ نمیتا تھاپر اور انوپم مِتّل دونوں نے ۷ء۱۳؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی، تاہم نمیتا نے ۲۲؍اسٹارٹ اپس میں سرمایہ لگایا جبکہ انوپم نے ۱۸؍ میں۔ رتیش اگروال نے بھی نمایاں کردار ادا کیا اور سات کاروباروں میں ۴ء۶؍کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی، جبکہ ورون الاگھ نے تقریباً اتنی ہی ڈیلز کیں مگر قدرے کم سرمایہ لگایا۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’کالکی ۲‘‘ سے متعلق نئی خبریں، ذوالقر سلمان کے ساتھ جے ڈی چکرورتی کی آمد
نئے شارکس اور نمایاں اسٹارٹ اپس
دیگر سرمایہ کاروں نے بھی اس سیزن میں اہم کردار ادا کیا۔ وینیتا سنگھ نے ۹؍اسٹارٹ اپس میں ۳ء۴؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی، جبکہ نئے شامل ہونے والے موہت یادو اور کنیکا ٹیکریوال نے بالترتیب ۷ء۳؍کروڑ اور۸ء۲؍ کروڑ روپے مختلف منصوبوں میں لگائے۔ سرمایہ کاری کے نچلے درجے پر امیت جین، ویراج باہل اور شیلی مہروترا کی ڈیلز کی تعداد کم رہی۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سٹی نے آرسنل کو پچھاڑ دیا، نیکو او ریلی کے دو گولز، سٹی نویں بار چیمپئن
متعدد اسٹارٹ اپس اپنی جدت اور منفرد پیشکشوں کی وجہ سے نمایاں رہے، جن میں دی کرافل گائز، گوٹ لائف، کوکی کارٹیل، جاپم، دی بندی پروجیکٹ، موڈج، فلوریئل، پھٹکو اور ہائزن شامل ہیں، جوہندوستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں بڑھتی ہوئی تنوع اور بلند حوصلے کی عکاسی کرتے ہیں۔