گڈچرولی میں سانپ کے کاٹنے سے ہوئی لڑکیوں کی موت کے بعد قبائلی برادری میں ناراضگی، وزیر کی پلہ جھاڑنے کی کوشش۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 11:56 AM IST | Ali Imran | Gadchiroli
گڈچرولی میں سانپ کے کاٹنے سے ہوئی لڑکیوں کی موت کے بعد قبائلی برادری میں ناراضگی، وزیر کی پلہ جھاڑنے کی کوشش۔
گڈچرولی کے ایک آشرم اسکول کی تین طالبات کی سانپ کے کاٹنے سے موت نے قبائلی ترقی کے محکمے پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ قبائلی طلبہ یونین نے وزیر برائے قبائلی ترقی اشوک اوئیکے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ۲۵؍اگست کو گڈچرولی ضلع میں تمام آشرم اسکول بند کرکے احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔ جبکہ وزیر اشوک اوئیکے نے اس واقعے کیلئے آشرم اسکول کے منتظمین کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے ادارے کے صدر کے خلاف احتجاج کریں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کریں۔‘
یہ بھی پڑھئے: پوترپورٹل ویب سائٹ کی سست رفتاری سے اُمیدوار پریشان
یاد رہے کہ گڈچرولی ضلع کے دھانورا تعلقہ میں واقع جپ تلائی گائوں میں ایک سرکاری آشرم اسکول میں سانپ کے کاٹنے سے تین طالبات کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے کے اثرات اب ریاست بھر میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں قبائلی طلبہ یونین نے براہ راست قبائلی ترقی کے وزیر اشوک اوئیکے سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ قبائلی طلبہ یونین کے نندو نروٹے نےالزام لگایا ہے کہ آشرم اسکولوں میں طلبہ کی حفاظت سمیت لڑکیوں کے مختلف مسائل زیر التوا ہیں۔ اس صورتحال کیلئے وزیر برائے قبائلی ترقی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشوک اوئیکے کو اپنے عہدے سےاستعفیٰ دیدینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو گڈچرولی ضلع کے تمام قبائلی آشرم اسکول ۲۵؍اگست کو بند ر کھے جائیں گے اور وزیر کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر آشرم اسکولوں میں طلبہ سہولیات نہیں مل رہی ہیں، ان کی حفاظت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ایسے واقعات کے بعد بھی کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہے، تو بحیثیت وزیر اشوک اوئیکے کو اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہئے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اشوک اوئیکے نے کہا ’’وہ ہمارے اچھے دوست ہیں۔ وہ قبائلی برادری کیلئے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ امداد یافتہ آشرم اسکول چلانے والے ہمارے ہیں اور ان کی رہنمائی کرنے والے بھی ہمارے ہیں۔ میں ان سے بات کروں گا۔ ‘‘ تاہم انہوں نےکہا، ’’ اس معاملے میں ادارے کے صدر سے براہ راست بات کریں۔ احتجاجی مورچہ میرے پاس لانے کے بجائے اُن کے پاس لے جائیں اور اُن کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں۔ ‘‘