گائوں میں طبی سہولت نہ ہونے کے سبب گھر ہی پر بغیر ڈاکٹر کی مدد کے۲۷؍ سالہ ریانی کے بچوں کی ولادت ہوئی۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 10:54 AM IST | Ali Imran | Akola
گائوں میں طبی سہولت نہ ہونے کے سبب گھر ہی پر بغیر ڈاکٹر کی مدد کے۲۷؍ سالہ ریانی کے بچوں کی ولادت ہوئی۔
ہم اکثر جڑواں بچوں یا تینوں بچوں کے ایک ہی وقت میں پیدا ہونے کے بارے میں سنتے ہیںلیکن بلڈانہ کے، قبائلی اکثریتی دیہات چاربین سے تعلق رکھنے والی ریانی پنشارام سستیہ(۲۷) نامی خاتون نے ۵؍ اگست کو ایک ہی وقت میں ۴؍ بچوں (تین لڑکے اور ایک لڑکی) کو جنم دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گاؤں میں ڈیلیوری کیلئے کوئی طبی سہولت دستیاب نہیں ہے ، ایسی صورت میں اس خاتون نے بغیر کسی ڈاکٹر کی مدد کے گھر ہی میں ان بچوں کو گھر میں جنم دیا۔ بس گائوں کی ایک تجربہ کار خاتون نے زچہ کی مدد کی۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ احاطے میں ’’امیت شاہ لاپتہ‘‘ کا پوسٹر،ایوان سے ہنوز غیر حاضر
یہ خبر اُس وقت سرخیوں میں آئی جب پیدا ہونے والے ان کمزور بچوں کو بہتر دیکھ بھال کیلئے کھام گاؤں کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ ولادت کے بعد سستیہ خاندان میں خوشی کا ماحول چھا گیا۔ ماں اور بچے کو ابتدائی جانچ کیلئے جلگاؤں جامود کے دیہی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ جب وہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو ماں اور بچوں کی حالت مستحکم تھی، لیکن چونکہ چاروں بچوں کا وزن بہت کم تھا، اسلئے انہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذر یعے کھام گائوں کے سرکاری جنرل اسپتال لے جایا گیا۔ جب کھام گائوں اسپتال کے ڈاکٹروں نے بچوں کا معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کا وزن صرف ۹۰۰؍گرام اور ایک کا وزن ایک کلو گرام ہے۔ اسلئے انہیں فوری طور پر ماہر اطفال کی نگرانی میں نوزائیدہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کروایا گیا اور علاج شروع کر دیا گیا۔ یادرہے کہ ریانی کے پہلے ہی ۳؍ بچے ہیں۔ اب ۴؍ بچوں کی ولادت کے بعد اس کے کل ۷؍ بچے ہو گئے ہیں۔ گائوں کے والوں کے علاوہ ڈاکٹر بھی بچوں کی ولادت پر حیران ہیں۔ ریانی کی طبیعت ٹھیک بتائی جا رہی ہے۔