Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپیس ایکس کا تاریخی کارنامہ، ۷۵؍ارب ڈالر کا سب سے بڑا امریکی آئی پی او

Updated: June 12, 2026, 12:00 PM IST | New York

ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او لانچ کرتے ہوئے۷۵؍ ارب ڈالر جمع کر لئے ہیں۔ اس غیر معمولی پیش رفت کے بعد کمپنی کی مالیت۱ء۷۷؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔

Elon Musk. Photo: INN
ایلون مسک۔ تصویر: آئی این این

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے۷۵؍ ارب ڈالر جمع کر لئے ہیں، اور یوں یہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے۔ راکٹ ساز کمپنی نے جمعرات کو اپنے حصص کی قیمت۱۳۵؍ ڈالر فی شیئر مقرر کی اور ۵۵۵ء۵۶؍ملین شیئرز فروخت کئے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مجموعی مالیت۱ء۷۷؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس شاندار آغاز کے بعد اسپیس ایکس امریکہ کی بڑی عوامی کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے اور اس کی مالیت جے پی مورگن چیس، برکشائر ہیتھاوے، ایلی للی، میٹا پلیٹ فارمز اور حتیٰ کہ ایلون مسک کی اپنی کمپنی ٹیسلا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ 
جب جمعہ کو نیس ڈیک (Nasdaq) میں اس کے حصص کی تجارت شروع ہوگی تو اسپیس ایکس امریکہ کی ساتویں بڑی لسٹڈ کمپنی بن جائے گی۔ کمپنی، جس کا باضابطہ نام اسپیس ایکسپلوریشن ٹیکنالوجیز کارپوریشن (Space Exploration Technologies Corp.) ہے، نے آئی پی او کی نگرانی کرنے والے بینکوں کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ اسی قیمت پر مزید ۸۳ء۳؍ملین شیئرز خرید سکیں۔ اگر یہ اختیار مکمل طور پر استعمال کیا گیا تو آئی پی او کا حجم۷۵؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً۸۶؍ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسپیس ایکس آئی پی او، ۴۴۰۰ افراد کو لکھ پتی، ۴۰۰ سے زائد افراد کو ۱۰۰ ملین ڈالر کا مالک بنا سکتا ہے

طلب رسد سے کہیں زیادہ
اس آئی پی او میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی غیر معمولی رہی۔ ۱۳۵؍ ڈالر فی شیئر کے حساب سے اسپیس ایکس کی مالیت تقریباً ۱ء۷۷؍ٹریلین ڈالر بنتی ہے، جبکہ ملازمین کے اسٹاک آپشنز اور محدود حصص (Restricted Stock Units) شامل کرنے پر کمپنی کی مکمل مالیت تقریباً ۱ء۸؍ٹریلین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ پیشکش ۲۰۱۹ءمیں سعودی آرامکو کے قائم کردہ عالمی آئی پی او ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ آرامکو نے اپنے آئی پی او کے ذریعے۲۵ء۶؍ ارب ڈالر جمع کئے تھے، جو افراطِ زر کے حساب سے تقریباً۳۳ء۲؍ ارب ڈالر بنتے ہیں۔ اسپیس ایکس نے اس ریکارڈ کو دوگنا سے بھی زیادہ کر دیا ہے، جس کے باعث یہ وال اسٹریٹ کی تاریخ کے اہم ترین مالیاتی واقعات میں شمار ہو رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک بھاری گراوٹ، سرمایہ کاروں میں تشویش

ایلون مسک کی منفرد حکمتِ عملی
ایلون مسک اور اسپیس ایکس نے روایتی وال اسٹریٹ طریقہ کار سے ہٹ کر کئی غیر معمولی اقدامات کئے۔ کمپنی نے آئی پی او کی قیمت کا اعلان امریکی مارکیٹوں کے کھلے ہونے کے دوران کیا، جبکہ عام طور پر کمپنیاں مارکیٹ بند ہونے کے بعد ایسی معلومات جاری کرتی ہیں تاکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا اثر کم رہے۔ قیمت طے ہونے کے فوراً بعد سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا گیا، پھر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) میں باضابطہ دستاویز جمع کرائی گئی اور تقریباً ۳۰؍منٹ بعد کمپنی نے پریس ریلیز جاری کر دی۔ اسپیس ایکس نے ایک اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے آئی پی او کے تقریباً۳۰؍ فیصد حصص عام سرمایہ کاروں کیلئے مختص کئے، جو بڑے عوامی شیئر اجرا میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ 
مزید یہ کہ کمپنی نے روایتی ’روڈ شو‘ مکمل ہونے سے پہلے ہی حصص کی قیمت طے کر دی، جبکہ عام طور پر اسی مرحلے میں سرمایہ کاروں اور کمپنی کے درمیان قیمت اور طلب پر بات چیت ہوتی ہے۔ فہرست میں شامل ہونے کے بعد بھی ایلون مسک کمپنی کے۸۲؍ فیصد ووٹنگ حقوق اپنے پاس رکھیں گے، جس سے ان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریلائنس میٹا کے اشتراک سے جام نگر میں اے آئی سے لیس ڈیٹا سینٹر قائم کریگی

عام سرمایہ کاروں کا غیر معمولی جوش
صرف بڑے مالیاتی ادارے ہی نہیں بلکہ عام سرمایہ کار بھی اسپیس ایکس کے حصص خریدنے کیلئے بے تاب نظر آئے۔ ذرائع کے مطابق انفرادی سرمایہ کاروں نے۷۰؍ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص خریدنے کی درخواستیں جمع کرائیں۔ کمپنی کو خودمختار ویلتھ فنڈز (Sovereign Wealth Funds) اور بڑے خاندانی سرمایہ کاری دفاتر (Family Offices) کی جانب سے بھی بھاری دلچسپی موصول ہوئی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک خاندانی سرمایہ کاری ادارے نے اکیلے ہی ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص خریدنے کی درخواست دی۔ تاہم، گرم جوش آئی پی اوز میں سرمایہ کار عموماً اپنی اصل ضرورت سے کہیں زیادہ حصص کی درخواست دیتے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ طلب رسد سے کہیں زیادہ ہوگی اور انہیں مطلوبہ مقدار کا صرف ایک حصہ ہی ملے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اترپردیش پنچایت انتخابات کی حتمی ووٹر فہرست جاری

سرمایہ کار مستقبل پر شرط لگا رہے ہیں 
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیس ایکس اس وقت منافع بخش کمپنی نہیں ہے، اس کے باوجود سرمایہ کار تقریباً۱ء۷۷؍ ٹریلین ڈالر کی مالیت پر اسے خریدنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ وہ اس کے طویل المدتی مستقبل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس اعتماد کی ایک بڑی وجہ کمپنی کے مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق بڑھتے ہوئے منصوبے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسپیس ایکس کا نیا اے آئی کاروبار مستقبل میں کمپنی کی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، اور اسی امید نے اس کی قدر میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اب اصل امتحان جمعہ کو شروع ہوگا، جب سرمایہ کار پہلی بار کھلے بازار میں اسپیس ایکس کے حصص کی خرید و فروخت کریں گے اور یہ طے ہوگا کہ آیا ایلون مسک کے اس نئے منصوبے کے گرد پیدا ہونے والا جوش و خروش واقعی اس تاریخی مالیت کا جواز فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK