امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ’’ ہم نے روس کو جی ۸؍ سے نکال کر غلطی کی تھی ‘‘، روسی صدر نے دعوت نامہ قبول کیا، مفاہمت کا امکان۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 9:50 AM IST | Mumbai
امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ’’ ہم نے روس کو جی ۸؍ سے نکال کر غلطی کی تھی ‘‘، روسی صدر نے دعوت نامہ قبول کیا، مفاہمت کا امکان۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن دسمبر میں امریکہ کے شہر میامی میں منعقد ہونے والے جی ۲۰؍ سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیںکیونکہ امریکی صدر ڈو نالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن کی موجودگی انتہائی مفید ہو گی اور روس کو جی ۸؍ سے نکالنا ایک غلطی تھی۔ ایک باخبر امریکی عہدیدار نے جمعہ کو کہا کہ امریکہ نے روس کو جی ۲۰؍ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس کی میزبانی واشنگٹن اس سال میامی میں کر رہا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ماسکو نے دعوت قبول کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سفارتی کوششیں تیز ،ایرانی وزیر خارجہ کی شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقات
روسی صدر پوتن نے ۲۰۱۹ءسے کورونا کی وجہ سے اور پھر ۲۰۲۲ء میں یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے جی ۲۰؍ اجلاس میں شرکت نہیں کی جس نے ماسکو اور مغربی ممالک کے درمیان سرد جنگ کے عروج کے بعد سے تعلقات میں سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا تھا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے سرکاری ٹیلی ویژن کے رپورٹر پاول زروبن کو بتایا کہ ممکن ہے
صدر پوتین جی ۲۰؍ کے رکن کی حیثیت سے میامی جائیں، یا شاید نہ جائیں، یا ہو سکتا ہے کوئی اور روسی نمائندہ چلا جائے۔واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ٹرمپ پوتین کو سربراہی اجلاس میں مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ دعوت کے معاملے یا اس بارے میں نہیں جانتے کہ آیا پوتن شرکت کریں گے یا نہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ابھی تک رسمی دعوت نامے جاری نہیں کئے گئے۔ عہدیدار ، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے مزید کہا کہ لیکن روس جہ ۲۰؍ کا رکن ہے اور اسے وزارتی اجلاسوں اور قائدین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے مدعو کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سزائے موت پر پابندی ختم، پوپ لیو نے مذمت کی
مناسب نمائندگی
دمتری پیسکوف نے کہا کہ سربراہی اجلاس میں روس کی ہر حال میں مناسب نمائندگی ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسکو جی ۲۰؍ اجلاس کو دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بحرانوں کے پیش نظر انتہائی اہم سمجھتا ہے۔کریملن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ ۲۰۱۴ء میں روس کو جی ۸؍ سے نکالنا ایک غلطی تھی، لیکن وہ گروپ، جو اس کے بعد جی ۷؍ بن گیا، اب روس کیلئے اہمیت کا حامل نہیں رہا اور کسی حد تک بیکار نظر آتا ہے۔ روسی خبر رساں اداروں نے روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر پانکن کے حوالے سے بتایا کہ روس کو میامی میں جی ۲۰؍ سربراہی اجلاس میں اعلیٰ ترین سطح پر شرکت کی دعوت موصول ہو گئی ہے۔