ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘ کیا ہے، جانئےکتنے ممالک نے اس میں شمولیت کی دعوت قبول کی، اس سے قبل دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا، کیونکہ اقوام متحدہ نے اپنی صلاحیت کا استعمال نہیں کیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 9:59 PM IST | Davos
ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘ کیا ہے، جانئےکتنے ممالک نے اس میں شمولیت کی دعوت قبول کی، اس سے قبل دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا، کیونکہ اقوام متحدہ نے اپنی صلاحیت کا استعمال نہیں کیا ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات۲۲؍ جنوری کو سویٹزرلینڈ کے ڈائوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے اپنے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا پہلا چارٹر رسمی طور پر جاری کیا۔ دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا، کیونکہ اقوام متحدہ نے اپنی صلاحیت کا استعمال نہیں کیا۔واضح رہے کہ اس بورڈ کے قیام کا اعلان۱۵؍ جنوری کو کیا گیا تھا، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۲۸۰۳؍ سے منظور شدہ ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔بورڈ کا مقصد فوجی مہم ختم کرنا، انسانی امداد، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، اور علی شعث کی قیادت میں غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی کے تحت ایک ٹیکنوکریٹ فلسطینی انتظامیہ قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: داؤس: عالمی لیڈروں نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ منشور پر دستخط کئے
بعد ازاں ٹرمپ اسے ’’اقوام متحدہ کا ممکنہ متبادل غزہ سےپرے دیگر تنازعات سے نمٹنے کے لیے ایک متوازی غیر سرکاری ادارہ‘‘ سمجھتے ہیں۔اس ادارے کی بانی ایگزیکٹو کمیٹی میں امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ارب پتی مارک روون، اور مشیر رابرٹ گیبریل جیسی معروف شخصیات شامل ہیں۔جبکہ ٹرمپ نے درجنوں ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے جس کا مقصد عالمی تنازعات کو حل کرنا ہے۔ساتھ ہی ٹرمپ نے امریکہ کے حریف روس اور چین، نیز طویل عرصے سے جابر ریاست بیلاروس کو بھی بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
دریں اثناء اسرائیل اور آذربائیجان نے ٹرمپ کی پیشکش قبول کر لی ہے اور ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔بورڈ آف پیس کے دستاویزات اور چارٹر پر دستخط کرنے والے رہنماؤں کی فہرست میں شامل عالمی شخصیات درج ذیل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ امن بورڈ: روس کا مؤقف واضح،غزہ امن کونسل میں شمولیت ابھی زیرِغور
شیخ عیسیٰ بن سلمان بن حمد آل خلیفہ، منسٹر آف پرائم منسٹر کورٹ، بحرین·
ناصر بوریطا، وزیر خارجہ، مراکش
جاویئر میلئی، صدر، ارجنٹائن
نکول پاشینیان، وزیر اعظم، آرمینیا
الہام علیوف، صدر، آذربائیجان
روزن ژیلیازکوف، وزیر اعظم، بلغاریہ
وکٹر اوربان، وزیر اعظم، ہنگری
پرابووو سبیانتو، صدر، انڈونیشیا
ایمن الصفدی، وزیر خارجہ، اردن
قاسم جومارت توکایف، صدر، قازقستان
وجوسا عثمانی، صدر، کوسوو
میاں محمد شہباز شریف، وزیر اعظم، پاکستان
سانتیاگو پینیا، صدر، پیراگوئے
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، صدر، قطر
شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، وزیر خارجہ، سعودی عرب
حکان فیدان، وزیر خارجہ، ترکی
خلدون خلیفہ المبارک، متحدہ عرب امارات کے امریکہ میں خصوصی ایلچی
شوکت مرزیئیف، صدر، ازبکستان
گومبوجاوین زندانشاتر، وزیر اعظم، منگولیا