امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی آئی سی سی کے خلاف مہم نیتن یاہو کو بچانے کیلئے ہے، جبکہ مارکو روبیو نے دلیل دی کہ یہ کوشش امریکی اہلکاروں کو مستقبل میں آئی سی سی کے ممکنہ مقدمات سے بچانے کے لیے بھی ہے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 8:03 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی آئی سی سی کے خلاف مہم نیتن یاہو کو بچانے کیلئے ہے، جبکہ مارکو روبیو نے دلیل دی کہ یہ کوشش امریکی اہلکاروں کو مستقبل میں آئی سی سی کے ممکنہ مقدمات سے بچانے کے لیے بھی ہے۔
امریکی صدر ـڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کے خلاف مہم بنیادی طور پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر اہلکاروں کو استغاثہ سے بچانے کے لیے ہے، جبکہ مارکو روبیو نے دلیل دی کہ یہ کوشش امریکی اہلکاروں کو مستقبل میں آئی سی سی کے ممکنہ مقدمات سے بچانے کے لیے بھی ہے۔امریکی صدر نے اصرار کیا کہ وہ خود عدالت کی تحقیقات کا مرکز نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے یہ تبصرہ۳۱؍ جولائی کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے دوران کیا، جب سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے وزراء کو ہیگ میں قائم اس عدالت کو چھوڑنے کے لیے رکن ممالک کو راضی کرنے کی کوششوں کے بارے میں معلومات دی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میری گرفتاری کی کوشش پراسرائیلی خصوصی فورسیزجوابی کارروائی کیلئے تیار‘‘
بعد ازاں مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ پانچ ممالک نے اس ماہ کے اوائل میں امریکہ کی زیرقیادت مہم کے بعد آئی سی سی سے علیحدگی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ انتظامیہ کے اقدامات کا مقصد ذاتی طور پر ان کی حفاظت کرنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’کوئی خبرنہیں ہے کہ وہ میرے پیچھے ہیں۔یہ ہو سکتا ہے، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے... وہ (روبیو) میرا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ وہ بی بی( نیتن یاہو) اور دیگر لوگوں کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
روبیو کے مطابق، آئی سی سی مہم صرف اسرائیلی وزیراعظم کے بارے میں نہیں ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ امریکی فوجی اہلکار بھی مستقبل میں آئی سی سی میں استغاثہ کا سامنا کر سکتے ہیں۔ روبیو نے کہا کہ امریکی فوجی اہلکار فوجی کارروائیوں میں شرکت کے برسوں بعد ممکنہ قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں، جس سے عدالت کے خلاف انتظامیہ کی مخالفت ایک وسیع تر قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
ذہن نشین رہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ(آئی سی سی )، جو۲۰۰۲ء میں قائم ہوئی اور ہیگ میں واقع ہے، نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرتی ہے۔ یہ اس وقت دائرہ اختیار استعمال کرتی ہے جب قومی حکام ایسے جرائم کی قانونی چارہ جوئی کرنے سے قاصر یا عدم دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ اگرچہ ریاستہائے متحدہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، لیکن اگر مبینہ جرائم کسی آئی سی سی رکن ریاست کی سرزمین پر کیے گئے ہوں تو عدالت غیر رکن ریاستوں کے شہریوں پر بھی مقدمہ چلا سکتی ہے۔دراصل ٹرمپ انتظامیہ نے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عدالت کے خلاف اپنی تنقید میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ غزہ تنازع کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں آئی سی سی کی جانب سے نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے بعد مخالفت میں شدت آگئی۔جبکہ اس ماہ کے اوائل میں، روبیو نے عدالت پر حدود سے تجاوز کا الزام لگایا، اور کارکن گروپوں کی طرف سے تارکینِ وطن کی ملک بدری اور مشتبہ سمندری منشیات کے اسمگلروں کو نشانہ بنانے والی فوجی کارروائیوں پر امریکی اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کے مطالبات کی طرف اشارہ کیا۔ مزید برآں عدالت کو کمزور کرنے کی اپنی حکمت عملی کے حصے کے طور پر، امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ رکن ممالک کو آئی سی سی سے دستبرداری کی ترغیب دے گی جبکہ عدالت کے عہدیداروں اور وابستہ تنظیموں پر سفری پابندیاں اور مالی پابندیاں عائد کرے گی۔ تاہم، ان امریکی اقدامات کو پہلے ہی آئی سی سی ججوں اور امریکی وکالت گروپوں کی جانب سے قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں آئینی آزادی اظہار کی حفاظت کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔