ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا خواب چکنا چور ہونے کے بعد تحریر پر پلٹزر انعام چاہیے ، انہوں نے کہا کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اس انعام کو حاصل کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 8:30 PM IST | Washington
ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا خواب چکنا چور ہونے کے بعد تحریر پر پلٹزر انعام چاہیے ، انہوں نے کہا کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اس انعام کو حاصل کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جنوبی کیرولائنا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے،امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تحریر کے لیے پلٹزر انعام کے مستحق ہیں جبکہ انہوں نے ان صحافیوں پر تنقید کی جنہوں نے روس کی تحقیقات کی کوریج کے لیے یہ ایوارڈ جیتا تھا۔ ٹرمپ، جنہوں نے نوبیل امن انعام نہ ملنے کی شکایت بھی کی ہے، نے دعویٰ کیا کہ وہ نامہ نگاری غلط تھی۔ ٹرمپ نے شکایت کی کہ انہیں دونوں ایوارڈز سے محروم رکھا گیا اور اصرار کیا کہ وہ اپنی تحریر کے لیے بھی پہچان کے مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حوثی حملے، امریکہ کا سفارتی عملے اور اہلِ خانہ کو سعودی عربیہ چھوڑنے کا حکم
دریں اثناء پینڈلٹن میں ٹی ایڈ گیریسن ایرینا میں خطاب کرتے ہوئے، جہاں وہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے لیے مہم چلا رہے تھے، ٹرمپ نے ان صحافیوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے روس کی تحقیقات کی کوریج کے لیے پلٹزر انعام جیتے تھے، اور دعویٰ کیا کہ ان کی رپورٹنگ غلط تھی۔ ٹرمپ نے ہجوم سے کہا، ’’مجھے نوبیل انعام نہیں ملا۔ مجھے پلٹزر نہیں ملا۔ مجھے لکھنے کے لیے بھی پلٹزر ملنا چاہیے تھا۔جن لوگوں کو یہ ملا انہیں نہیں ملنا چاہیے تھا، آپ جانتے ہیں؟ انہیں روس کے موضوع پر اپنی درست اور شاندار تحریر کے لیے پلٹزر انعام ملا۔ لیکن وہ غلط تھے وہ سب غلط تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ما تحتی میں ۳؍ لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ: امریکی انتظامیہ
واضح رہے کہ۲۰۲۲ء میں، بورڈ نے۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی رپورٹنگ کے لیے دی نیویارک ٹائمز اور دی واشنگٹن پوسٹ کو نیشنل رپورٹنگ میں۲۰۱۸ء کا پلٹزر انعام دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کس تحریر کا حوالہ دے رہے تھے جب انہوں نے کہا کہ وہ پلٹزر کے مستحق ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے کئی کتابیں شائع کی ہیں، بہت سی پیشہ ور مصنفین کے ساتھ مل کر لکھی گئی تھیں۔ ٹرمپ کی بریک تھرو کتاب، ’’دی آرٹ آف دی ڈیل‘‘، ۱۹۸۷ءمیں شائع ہوئی تھی لیکن بعد میں شریک مصنف ٹونی شوارٹز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ٹرمپ کے بہت کم ان پٹ کے ساتھ بیشتر کتاب لکھی تھی۔مزید برآں، ٹرمپ نوبیل امن انعام کا نام بھی بھول گئے، غلطی سے اسے پلٹزر پرائز کہہ دیا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے یہ تمام جنگیں ختم کیں، اور انہوں نے شاندار امن انعام، ایک نوجوان خاتون کو پلٹزر پرائز دیا، ٹھیک ہے؟ کیا کسی کو اس امن انعام کا نام معلوم ہے ۔‘‘