ٹرمپ کے مطابق، اسرائیل، عرب ممالک کے ساتھ مل کر امداد کی تقسیم میں مدد کرے گا۔ قطر، اردن اور مصر، مالی طور پر اور رسد کی مدد کے ذریعے امریکہ کا ساتھ دینے کیلئے آگے آسکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 06, 2025, 8:01 PM IST | Washington
ٹرمپ کے مطابق، اسرائیل، عرب ممالک کے ساتھ مل کر امداد کی تقسیم میں مدد کرے گا۔ قطر، اردن اور مصر، مالی طور پر اور رسد کی مدد کے ذریعے امریکہ کا ساتھ دینے کیلئے آگے آسکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے کہ آیا امریکہ غزہ پٹی پر مکمل اسرائیلی قبضے کی حمایت کرے گا یا نہیں۔ اس کے بجائے، انہوں نے جنگ زدہ علاقے میں امریکہ کے ذریعے جاری انسانی ہمدردی کی کوششوں کو نمایاں کیا۔ منگل کو جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ غزہ پر اسرائیلی کنٹرول کی حمایت کرتے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا، ”یہ تقریباً اسرائیل پر منحصر ہوگا۔“
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو، امریکی حمایت کے ساتھ، غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اسرائیلی یرغمالیوں کے چھپے ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، ٹرمپ انسانی ہمدردی کے پہلو پر زیادہ توجہ دیتے دکھائی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم اب وہاں کے لوگوں کو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ اُنہوں نے بتایا کہ امریکہ نے غزہ کے لوگوں کیلئے ۶ کروڑ ڈالر کی خوراک کی امداد فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: اسرائیل کی مخالفت کی پاداش میں آفات امدادی فنڈ روکنے کا فیصلہ واپس
ٹرمپ کے مطابق، اسرائیل، عرب ممالک کے ساتھ مل کر امداد کی تقسیم میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس عرب ممالک ہیں… جو پیسے اور ممکنہ طور پر تقسیم میں مدد کر رہے ہیں۔“ دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو حماس کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوجی متبادلات کا جائزہ لینے کیلئے سیاسی اور فوجی لیڈران کے ساتھ میٹنگ کرنے والے ہیں۔
امریکہ کا غزہ میں امدادی کارروائیوں کا ’کنٹرول سنبھالنے‘ کا منصوبہ
غزہ میں بھکمری اور قحط کی سنگین صورتحال پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے درمیان، ٹرمپ انتظامیہ نے امداد کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں اسرائیل کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد رسانی کی کارروائیوں کا کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان پیر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ایک ملاقات کے بعد کیا گیا جو حال ہی میں غزہ میں پانچ گھنٹے تک حقائق کی جانچ کرنے کے بعد دورے سے واپس آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی محاصرہ توڑنے کیلئے فریڈم فلوٹیلا کی درجنوں کشتیاں غزہ روانہ ہوں گی
ایکزیوس نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ ٹرمپ انچارج بننے پر ”خوش نہیں“ ہیں لیکن انہیں کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر کو گہری تشویش ہے: ”غزہ میں بھوک کا مسئلہ بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کو یہ پسند نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ بچے بھوکے مریں۔“ قطر، اردن اور مصر، مالی طور پر اور رسد کی مدد کے ذریعے امریکہ کا ساتھ دینے کیلئے آگے آسکتے ہیں۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق، اسرائیل اس اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
اس وقت، غزہ میں انسانی امداد کو غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے تقسیم کیا جا رہا ہے جو فروری میں امریکی حمایت سے اسرائیل کی طرف سے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم، مئی کے بعد، امداد تک رسائی کی کوشش کرتے ہوئے ۱۳۰۰ سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ نسل کشی
جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہیں جس کے نتیجے میں، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اب تک ۶۰ ہزار ۵۰۰ سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ فلسطین کی وفا نیوز ایجنسی کے مطابق، تقریباً ۱۱ ہزار فلسطینی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ۲ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ اسرائیلی قابض افواج کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ پٹی میں خوراک کی شدید قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اب تک تقریباً ۲۰۰ فلسطینی، جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے، بھوک سے دم توڑ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں امدادی ٹرکوں کو اسرائیل نے پھر روک دیا
گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں۔ اسرائیل غزہ جنگ کیلئے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمہ کا بھی سامنا کررہا ہے۔