امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر لبنان سے آنے اور جانے والی پروازوں پر دہائیوں پرانی پابندیوں کو ختم کر دیا ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹوں میں سے ایک کو دور کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 4:01 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر لبنان سے آنے اور جانے والی پروازوں پر دہائیوں پرانی پابندیوں کو ختم کر دیا ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹوں میں سے ایک کو دور کرتا ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے۳۰؍ ستمبر کو دستخط شدہ اور امریکی فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے ایک صدارتی میمورنڈم میں بتایا گیا کہ’’۱۹۸۵ء،۱۹۹۲ء،۱۹۹۸ء اور۲۰۰۷ء میں جاری کردہ صدارتی احکامات کے تحت عائد پابندیاں لبنان سے آنے یا جانے والی پروازوں کو چلانے والے ہوائی جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور انہیں غیر قانونی قبضے سے بچانے کے لیے اب ضروری نہیں ہیں۔‘‘ صدارتی حکم نامہ ۲۰۲۵ء-۲۶ء کے تحت، ٹرمپ نے چاروں قراردادوں کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا اور امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن کو حکم دیا کہ وہ اس حکم کو فوری طور پر نافذ کریں اور اس سے متصادم کسی بھی ضابطے، قواعد یا احکامات کو منسوخ کریں۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا مسئلہ لبنانی صدر جوزف عون کے گزشتہ جولائی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران اٹھایا گیا تھا۔ لبنانی صدارت نے اس وقت کہا تھا کہ عون نے ٹرمپ کے ساتھ لبنان اور امریکہ کے درمیان براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا، جب کہ امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: سابق جج کے نوبیل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد آئی سی سی پر امریکی پابندیاں
بعد ازاں واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے لبنانی حکام کی جانب سے لیے گئے سیکیورٹی اقدامات پر اعتماد کا عکاس اور لبنان اور امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی جانب ایک اہم پہلا قدم قرار دیا۔خبر رساں ادارہ الشرق کے مطابق بیروت-نیو یارک پہلا روٹ ہے جس پر براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے انتظامات کے حصے کے طور پر کام کیا جا رہا ہے۔تاہم پابندیاں ہٹانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پروازیں فوری طور پر شروع ہوں گی، کیونکہ بیروت اور واشنگٹن کو اب بھی ریگولیٹری، سیکیورٹی اور آپریشنل انتظامات کو حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں براہ راست پروازوں کے آغاز کے لیے ابھی تک کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مطلوبہ طریقہ کار میں ضروری امریکی منظوری حاصل کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان ہوائی نقل و حمل کے انتظامات قائم کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کا قتل ایک غلطی تھی: اسرائیلی ڈیموکریٹس
مزید برآن مڈل ایسٹ ایئرلائنز نے گزشتہ جولائی میں اعلان کیا تھا کہ اس کے پاس بیروت اور نیویارک کے درمیان براہ راست روٹ چلانے کی صلاحیت رکھنے والے طیارے ہیں، لیکن اشارہ کیا کہ اس پر عمل درآمد کے لیے امریکی فریق کے ساتھ ہم آہنگی اور طریقہ کار کی تکمیل کی ضرورت ہے۔