امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران معاہدہ حتمی نہیں ہے، ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ حملوں کا انتباہ دیا،انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ اگر ایران کا رویہ مثبت نہ رہا تو دوبارہ بمباری کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 9:15 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران معاہدہ حتمی نہیں ہے، ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ حملوں کا انتباہ دیا،انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ اگر ایران کا رویہ مثبت نہ رہا تو دوبارہ بمباری کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اس ہفتے ایران کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے وہ ایک’’ افہام و تفہیم کی یادداشت‘‘ہے اور اس میں تبدیلی ممکن ہے۔’’اگر مجھے یہ پسند نہ آیا تو ہم واپس جا کر ان پر بمباری کریں گے،‘‘ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے لیڈردرست رویہ نہیں اپناتے تو امریکہ ان کی سرزمین پر دوبارہ ’’بم گرانے‘‘کا سلسلہ شروع کر دے گا۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے اس اپریل میں عارضی جنگ بندی کی تھی، اس سے قبل اس پیر کو تنازع ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے کا اعلان کیا گیا۔ توقع ہے کہ اس معاہدہ پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ طور پر دستخط کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے اسرائیل کو دستخط سے قبل ایران معاہدے کا متن دکھانےسے انکار کیا: رپورٹ
بعد ازاںٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔یہ کئی وجوہات کی بنا پر بہت اچھا معاہدہ ہے، لیکن پہلی اور سب سے اہم بات ۹۹؍ اعشاریہ ۹۹؍ فیصد، یہ ہے کہ ان کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے اس معاہدے کو انتہائی مضبوط قرار دیا۔ دریں اثناءامریکی صدر نے ایران کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے۳۰۰؍ بلین ڈالر کے ترقیاتی فنڈ کی دستیابی کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’جھوٹی کہانی‘‘ قرار دیا۔ اس بابت ٹرمپ نے کہا ’’ہم سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ ہم ایک پیسہ بھی نہیں لگا رہے، دوسرے لوگ سرمایہ کاری کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ میں کہوں گا کہ وہ کچھ عرصے تک ایسا نہیں کریں گے، جب تک کہ انہیں (ایران کے رویے کے بارے میں) پتہ نہ چل جائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے: امریکی سفیر
جنگ کے عالمی اقتصادی اثرات کے بارے میں، ٹرمپ نے کہا کہ مارکیٹوں میں کشیدگی میں کمی کے ردعمل کے طور پر تیل کی قیمتیں گر گئی ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ، آبنائے ہرمز جزوی طور پر پہلے ہی کھل چکی ہے اور انہیں توقع ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ اگلے دو دنوں میں مکمل طور پر کام کرنا شروع کر دے گی۔ مزید برآں ترمپ کا کہنا تھا کہ’’ اگر معاہدہ نہ ہوتا تو دنیا کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ راکٹوں اور بارودی سرنگوں کے خطرے کی وجہ سے یہ آبنائے بند رہتی۔‘‘