Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے ساتھ جنگ جاری، مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے: ٹرمپ

Updated: April 04, 2026, 8:05 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان کہا ہے کہ جنگی حالات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے۔ امریکی جنگی طیارہ گرائے جانے کے بعد انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ’’جنگ میں ہے‘‘، تاہم سفارتی رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔ پینٹاگون کی سرگرمیوں میں اضافے اور ممکنہ بڑے حملے کی قیاس آرائیوں کے ساتھ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

Fire breaks out at Iran chemical factory due to US attack. Photo: X
ایران کی کیمیکل فیکٹری پر امریکی حملے سبب آگ لگ گئی۔ تصویر: ایکس

(۱) ٹرمپ کا مؤقف: امریکی جیٹ گرنے کے باوجود ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے، جنگ جاری
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران کہا ہے کہ امریکی جنگی طیارہ گرائے جانے کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا:’’ہم جنگ میں ہیں، لیکن ہم بات چیت کو جاری رکھیں گے۔‘‘ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ امریکی حکام نے واقعے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ صورتحال سنجیدہ ہے۔
وہائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ بیک چینل رابطے برقرار ہیں اور سفارتی کوششیں مکمل طور پر بند نہیں کی گئیں۔ ایک اہلکار نے کہا کہ’’مذاکرات اور فوجی اقدامات دونوں بیک وقت جاری ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات جاری رکھے گا اور خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے موساد کا صدر دفتر اُڑادیا

(۲) ایرانی قیادت کا ردعمل: محمد باقر قالیباف کا امریکی طیارہ واقعے پر طنز
ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی جنگی طیارے کے گرائے جانے کے دعوے کے بعد امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے طنزیہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی’’رجیم چینج‘‘ سے ہٹ کر اب’’اپنے پائلٹس کو تلاش کرنے‘‘ تک محدود ہو گئی ہے۔ قالیباف نے اپنے بیان میں کہا:’’جو کل تک ہمارے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتے تھے، آج اپنے پائلٹ کی تلاش میں ہیں۔‘‘ یہ بیان ایرانی میڈیا میں نمایاں طور پر نشر کیا گیا اور اسے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا۔ امریکی حکام نے اس دعوے پر محتاط ردعمل دیا ہے اور واقعے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بیانیاتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پرھئے: ٹرمپ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو اپنے فیصلوں سے جوڑ دیا، سخت مؤقف

(۳) جنگ میں شدت کا امکان: پینٹاگون سرگرم، بڑے امریکی حملے کی قیاس آرائیاں
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی سرگرمیوں میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں رات کے اوقات میں سرکاری دفاتر میں غیر معمولی سرگرمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کچھ رپورٹس میں نام نہ ظاہر کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران سے متعلق فوجی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک اہلکار نے کہا:’’تمام آپشنز میز پر موجود ہیں اور ہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘ امریکی حکام کی جانب سے کسی نئے فوجی آپریشن یا بڑے حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، تاہم جاری کشیدگی کے تناظر میں فوجی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی امریکی حکام یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ صورتحال کے پیش نظر دفاعی اور آپریشنل منصوبہ بندی جاری رکھی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK