Updated: October 05, 2026, 7:09 PM IST
| Washington/Tehran
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے مشاورتی کمانڈر علی فدوی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے زمینی حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی فوجی پیداوار اب اس کے استعمال سے زیادہ ہے اور تہران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق قواعد تیار کر لئے ہیں۔
امریکہ کے وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اتوار کے روز بیان دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں سفارتی اور فوجی دونوں آپشنز پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے خطے میں تیسرے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔ سی بی ایس نیوز پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اگلے ماہ مشرقِ وسطیٰ میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی متوقع آمد مڈ ٹرم انتخابات کے بعد کشیدگی میں اضافے کے کسی منصوبے کا اشارہ ہے، تو رائٹ نے صدر ٹرمپ کے مخصوص منصوبوں پر بات کرنے سے گریز کیا۔ رائٹ نے کہا کہ ”صدر ہمیشہ ہنگامی حالات کیلئے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ مذاکرات کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے دونوں راستے اب بھی جاری ہیں، سفارتی اور فوجی۔“
یہ بھی پڑھئے: روکیں گے تو سرمایہ کاری چین چلی جائیگی: ٹرمپ نے ڈیٹا سینٹرز کا دفاع کیا
مزید حملوں یا توانائی کی ترسیل میں تعطل کی کوئی ضمانت نہیں
رائٹ نے کہا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ایران خلیج کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں سے باز رہے گا، جو ایندھن کی پہلے سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”تنازع میں کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔“ رائٹ نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتیں خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں، جس میں چین کی جانب سے ریفائنڈ ایندھن کی برآمدات میں کمی کے باعث مزید شدت آ گئی ہے۔ جی۔۷ ممالک نے چار ماہ کے دوران اسٹریٹجک ذخائر سے ۱۰۰ ملین بیرل ایندھن مارکیٹ میں لانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر ڈیزل پر زیادہ توجہ مرکوز ہوگی۔ رائٹ کو توقع ہے کہ قیمتیں ۶ ڈالر فی گیلن سے نیچے آ جائیں گی، اگرچہ اس کیلئے کوئی حتمی ٹائم لائن طے نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو عملی طور پر ترک کر دیاہے: ٹرمپ
ایران کی جوابی کارروائی کی تنبیہ
علیحدہ طور پر، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے مشاورتی کمانڈر علی فدوی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے زمینی حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ ”اگر امریکیوں نے زمینی حملہ کیا، تو ہم امریکیوں سے متعلق ہر مقام کو نشانہ بنائیں گے،“ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فوجی پیداوار اب اس کے استعمال سے زیادہ ہے اور تہران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق قواعد تیار کر لئے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے کبھی کسی مسلم ملک پر حملہ نہیں کیا، بلکہ صرف ان کے اندر قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔