ٹرمپ نے اتحادیوں کو بے خبر رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کے ابتدائی مرحلے میں نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے پہلے دو دنوں میں تقریباً ۵۰ فیصد مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 9:06 PM IST | Washington
ٹرمپ نے اتحادیوں کو بے خبر رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کے ابتدائی مرحلے میں نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے پہلے دو دنوں میں تقریباً ۵۰ فیصد مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے ساتھ ملاقات کے دوران، امریکہ-اسرائیل فوجی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے پرل ہاربر حملے کا حوالہ دے کر ایک نئے تنازع میں گھر گئے ہیں۔ جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے سے پہلے اپنے اتحادیوں کو پہلے سے مطلع کیوں نہیں کیا، تو امریکی صدر نے فوجی کارروائیوں میں رازداری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ بہت زیادہ اشارے نہیں دینا چاہتے۔۔۔ ہم حیران کر دینے والا عنصر (سرپرائز) چاہتے تھے۔“
اس کے بعد انہوں نے ایران پر امریکہ اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا موازنہ، دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی نیوی کے اڈے پرل ہاربر پر جاپانی حملوں سے کیا اور کہا، ”سرپرائز کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے؟ آپ نے مجھے پرل ہاربر کے بارے میں کیوں نہیں بتایا تھا؟“ یہ تبصرہ بظاہر تاکائیچی کیلئے غیر متوقع تھا، کیونکہ اوول آفس میں اس گفتگو کے دوران انہیں واضح طور پر ردِعمل دیتے ہوئے دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ جاپان نے ۷ دسمبر ۱۹۴۱ء کو پرل ہاربر پر بم برسائے تھے جس میں ۲۳۹۰ امریکی ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے اسے ایسی تاریخ قرار دیا تھا جو ”رسوائی کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ امریکی سلطنت، ڈالر کے تسلط کا خاتمہ بن سکتی ہے:امریکی ارب پتی رے ڈالیو
ٹرمپ نے اپنی حکمتِ عملی کا دفاع کیا، بڑی کامیابیوں کا دعویٰ
ٹرمپ نے اتحادیوں کو بے خبر رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کے ابتدائی مرحلے میں نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے پہلے دو دنوں میں تقریباً ۵۰ فیصد مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے رازداری کے اسٹریٹجک فائدے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”اگر میں سب کو بتا دوں، تو یہ سرپرائز نہیں رہے گا۔“
جاپان کی تعریف، نیٹو پر تنقید
ٹرمپ نے جاپان کی جانب سے امریکہ کو ملنے والی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو نے بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ”جاپان واقعی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔“ انہوں نے امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر نیٹو اتحادیوں پر تنقید کی اور ان پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”ضرورت انہیں ہے... لیکن وہ مدد نہیں کرنا چاہتے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کے ساتھ تعلقات صرف اس وقت بہتر ہوئے جب ان کی انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کیا۔
پینٹاگون کیلئے ۲۰۰ ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ
امریکی صدر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پینٹاگون کیلئے ۲۰۰ ارب ڈالر تک کی اضافی فنڈنگ طلب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اسے امریکی فوجی طاقت برقرار رکھنے کے لئے ضروری قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم اب تک کی بہترین حالت میں رہنا چاہتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ خاص طور پر جدید گولہ بارود پر مرکوز ہوگی اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ موجودہ ذخائر محفوظ رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے کیلئے امریکہ و اسرائیل کو اپنی زمین دینے ولاے ممالک سے مطاوضے کا مطالبہ
سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
ٹرمپ کے پرل ہاربر حملے کا حوالہ دینے والے تبصرے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ بہت سے صارفین نے اس تبصرے کو نامناسب اور غیر حساس قرار دیتے ہوئے امریکی صدر پر تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ ”پرل ہاربر کا مذاق اڑانا کوئی حکمت عملی نہیں بلکہ بے عزتی کے مترادف ہے۔“ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ”جب آپ کو جاپان کی مدد کی ضرورت ہو، تو غالباً یہ اس طرح کے لطیفے بنانے کا صحیح وقت نہیں ہے۔“ کئی صارفین نے ٹرمپ کے تبصرے کے بعد جاپانی وزیراعظم کی واضح بے چینی کو نوٹ کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ”ان کا ردعمل سب کچھ بیان کر رہا تھا۔“ کئی صارفین نے ٹرمپ کے تبصرے کو ”شرمناک“ اور شائستگی سے عاری قرار دیا۔