• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی مقبولیت دوسری مدت کی کم ترین سطح پر، قدامت پسند حامیوں میں بھی کمی

Updated: September 21, 2026, 8:03 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت دوسری مدتِ صدارت کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مارکویٹ لا اسکول کے سروے میں صرف ۳۷؍ فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور ایران جنگ سمیت مختلف پالیسیوں پر عدم اطمینان نے ان کی حمایت کو متاثر کیا ہے۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

مارکیٹ لاء اسکول کے ایک سروے کے مطابق، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح (approval rating) ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے؛ دریں اثنا، وسط مدتی انتخابات سے قبل کے آخری ہفتوں میں ریپبلکنز کی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ ان کے انتہائی قدامت پسند حامیوں کے ایک حلقے میں بھی ان کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مارکویٹ کے سروے کے مطابق امریکہ کے ۳۷؍ فیصد بالغ افراد نے ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ ۶۳؍ فیصد نے اسے مسترد کیا۔ نیوز ویک کے مطابق ٹرمپ کی خالص منظوری کی شرح منفی ۲۶؍ فیصد تک پہنچ گئی، جو مارکویٹ کے سروے میں ان کی دوسری مدت کا اب تک کا کم ترین نتیجہ ہے۔ یہ سروے ۲؍ تا ۹؍ ستمبر کے درمیان ملک بھر میں ایک ہزار ۲۳؍ بالغ افراد کے درمیان کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ خود کو ’’انتہائی قدامت پسند‘‘ قرار دینے والے امریکیوں میں ٹرمپ کی منظوری جولائی کے ۸۴؍ فیصد سے کم ہوکر ستمبر میں ۷۶؍ فیصد رہ گئی، جبکہ انہیں مسترد کرنے والوں کی شرح ۱۶؍ فیصد سے بڑھ کر ۲۴؍ فیصد ہوگئی۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کر گئے

دیگر قومی سروے بھی اسی طرح کی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نیوز ویک کے مطابق فاکس نیوز کے ایک سروے میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح ۳۹؍ فیصد، جبکہ رائٹرز/اِپسوس کے سروے میں ۳۵؍ فیصد رہی۔ دونوں سروے میں اکثریت نے ٹرمپ کی کارکردگی کو مسترد کیا۔ دی اکانومسٹ کے یو گوو پولنگ ٹریکر کے مطابق ٹرمپ کی خالص منظوری کی شرح منفی ۲۵؍ فیصد ہے۔ اس کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کے ووٹرز کی بڑی تعداد اب بھی ان کی بطور صدر کارکردگی کی حمایت کرتی ہے، تاہم ۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والی بعض ریاستوں میں بھی ان سے عدم اطمینان دکھائی دے رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ریپبلکن پارٹی کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول داؤ پر ہے۔

معاشی خدشات ٹرمپ کی مقبولیت پر اثرانداز

مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ ان اہم مسائل میں شامل ہیں جو ووٹرز کے حکومتی انتظامیہ کے بارے میں خیالات کو متاثر کر رہے ہیں۔ مارکویٹ کے سروے میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا، جس کی نشاندہی ۳۷؍ فیصد جواب دہندگان نے کی۔ نیوز ویک کے مطابق بہت سے امریکی اب بھی کہتے ہیں کہ سال کے آغاز کے مقابلے میں انہیں گروسری اور پٹرول کے لیے زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ دی اکانومسٹ نے بھی مہنگائی کی بلند شرح اور محصولات کو ایسے عوامل قرار دیا جو ووٹرز میں ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ اشاعت کے مطابق ٹرمپ کا یہ وعدہ کہ ’’مہنگائی مکمل طور پر ختم ہوجائے گی‘‘ ان معاشی حالات سے مطابقت نہیں رکھتا جن کا ووٹرز کو سامنا ہے۔ یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ریپبلکن پارٹی کو توقع تھی کہ وسط مدتی انتخابی مہم میں امیگریشن، سرحدی سلامتی اور عوامی تحفظ جیسے معاملات نمایاں رہیں گے، جن پر پارٹی روایتی طور پر مضبوط موقف رکھتی ہے۔ تاہم اب مالی اور معاشی مسائل سیاسی بحث کا مرکزی حصہ بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان کی تینوں بہنیں تھری ایم پی او کے تحت ۳۰ ؍روز کیلئے نظر بند

ایران جنگ نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ نیوز ویک کے مطابق فاکس نیوز کے ایک حالیہ سروے میں اکثریت نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی غلط فیصلہ تھا، جبکہ تقریباً تین چوتھائی افراد نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس تنازع ختم کرنے کا واضح منصوبہ نہیں ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے فیصلے بھی ووٹرز میں عدم اطمینان کا سبب بن رہے ہیں، اگرچہ بہت سے امریکیوں کے لیے خارجہ پالیسی کے مقابلے میں معاشی مسائل زیادہ اہم ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کا دفاع جاری رکھا ہے۔ مئی میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکیوں کے معاشی خدشات ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہوں گے، تو انہوں نے کہا تھا ’’میں امریکیوں کی مالی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں کسی کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچتا ہوں۔ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، بس۔ یہی واحد چیز ہے جو مجھے متحرک کرتی ہے۔‘‘ بدھ کو شمالی کیرولائنا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ جنگ کی وجہ سے امریکیوں کو پٹرول کی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے جو کچھ کیا ہے، اس کے مقابلے میں یہ بہت معمولی قیمت ہے۔‘‘

آزاد ووٹرز بھی تشویش کا باعث

آزاد ووٹرز میں بھی ٹرمپ کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ نیوز ویک کے مطابق اگست میں آئی اینڈ آئی/ٹی آئی پی پی کے ایک قومی سروے میں آزاد ووٹرز کے درمیان ٹرمپ کی منظوری ۲۹؍ فیصد سے کم ہوکر ۲۶؍ فیصد ہوگئی، جبکہ انہیں مسترد کرنے والوں کی شرح ۵۹؍ فیصد سے بڑھ کر ۶۱؍ فیصد ہوگئی۔ آزاد ووٹرز میں یہ تبدیلی اہم ہے، کیونکہ ٹرمپ سے عدم اطمینان کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ یہ ووٹرز خودکار طور پر ڈیموکریٹس کی حمایت کریں گے۔ ریپبلکن پارٹی کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کم ہوتی ہوئی مقبولیت ان ووٹرز کے ووٹ ڈالنے کے جوش کو متاثر کرے گی جنہوں نے ماضی میں پارٹی کی حمایت کی، لیکن اب کم پرجوش نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دبئی: حکمراں شیخ محمد کے بھائی شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کا انتقال،۱۰؍ روزہ سوگ

نیوز ویک سے گفتگو کرتے ہوئے سیراکیوز یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر گرانٹ ریہر نے کہا کہ عدم منظوری کو لازماً مخالف جماعت کو ووٹ دینے کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صدر کی کارکردگی کو مسترد کرنا اور ڈیموکریٹ امیدوار کو ووٹ دینا دو الگ باتیں ہیں، تاہم یہ ووٹرز کی ممکنہ شرکت کے بارے میں زیادہ اہم اشارہ دے سکتا ہے، اور وسط مدتی انتخابات میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے۔ انسائیڈ الیکشنز کے ایڈیٹر اور پبلشر ناتھن گونزالیس نے بھی ووٹرز کی شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی کم منظوری نے ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جس میں ڈیموکریٹس کو ان مقامات پر بھی مقابلے کے مواقع مل رہے ہیں جہاں عام طور پر ان کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا۔

ٹرمپ کے بنیادی حامیوں میں بھی حمایت کمزور

مارکویٹ کے سروے میں خود کو انتہائی قدامت پسند قرار دینے والے ووٹرز کے درمیان نتائج خاص توجہ کا مرکز بنے ہیں، کیونکہ ٹرمپ کو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے بنیادی حلقے سے سب سے زیادہ حمایت حاصل رہی ہے۔ انتہائی قدامت پسند امریکیوں میں ٹرمپ کی منظوری جولائی سے ستمبر کے درمیان ۸؍ فیصد پوائنٹس کم ہوکر ۸۴؍ فیصد سے ۷۶؍ فیصد رہ گئی۔ اسی دوران انہیں مسترد کرنے والوں کی شرح ۱۶؍ فیصد سے بڑھ کر ۲۴؍ فیصد ہوگئی۔ نیوز ویک سے گفتگو کرنے والے سیاسی ماہرین نے کہا کہ اس مخصوص گروپ کے نتائج کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے کیونکہ اس کا نمونہ نسبتاً محدود ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ تبدیلی مہنگائی، معیشت اور ایران جنگ کے حوالے سے وسیع تر تشویش کی عکاسی کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، ۲؍ افراد ہلاک

دی اکانومسٹ کے یو گوو ڈیٹا کے تجزیے میں بھی مختلف آبادیاتی گروپوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔ سفید فام اور مرد ووٹرز ان گروپوں میں شامل تھے جن میں ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری کا امکان زیادہ تھا، جبکہ نوجوان اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ان گروپوں میں شامل تھے جو ٹرمپ کی کارکردگی سے سب سے زیادہ ناخوش تھے۔ کالج اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم یافتہ افراد میں بھی ٹرمپ کی حمایت کا امکان نسبتاً کم تھا۔ اشاعت کے مطابق ریٹائرمنٹ کی عمر کے ووٹرز، جو عام طور پر ریپبلکن پارٹی کا مضبوط حلقہ سمجھے جاتے ہیں، بھی صدر کے حوالے سے نسبتاً کم پرجوش دکھائی دیے۔ دی اکانومسٹ نے یو گوو کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ریاست بہ ریاست ٹرمپ کی منظوری کا بھی تجزیہ کیا۔ اس کے مطابق ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے والی ریاستوں میں ٹرمپ کی منظوری سب سے کم اور ریپبلکن رجحان رکھنے والی ریاستوں میں سب سے زیادہ تھی، تاہم ان ریاستوں میں بھی عدم اطمینان موجود تھا جنہیں ٹرمپ نے ۲۰۲۴ء کے انتخابات میں جیتا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK