ایک رپورٹ کے مطابق انتخاب سے قبل سفید فام خواتین رپبلکن سے کنارہ کشی اختیار کررہی ہیں، جبکہ ۲۰۲۴ء میں انہیں خواتین نے ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب وہ ٹرمپ سے متاثر نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 4:57 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق انتخاب سے قبل سفید فام خواتین رپبلکن سے کنارہ کشی اختیار کررہی ہیں، جبکہ ۲۰۲۴ء میں انہیں خواتین نے ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب وہ ٹرمپ سے متاثر نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر۲۰۲۶ء کے درمیانی انتخابات میں ایک ایسے مسئلے سے نبرد آزما ہیں جو مہنگا ثابت ہو سکتا ہے: خواتین، بشمول سفید فام خواتین جنہوں نے۲۰۲۴ء میں ریپبلکن اتحاد کو بڑھانے میں ان کی مدد کی تھی، اب ان سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک نئے قومی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سفید فام خواتین ٹرمپ سے متاثر نہیں ہیں، اور ڈیموکریٹس اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ایک ایسے ووٹنگ بلاک میں واضح خسارے سے آٹھ پوائنٹ کی برتری کی طرف بڑھ رہے ہیں جو طویل عرصے سے ریپبلکن کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا۔بیل ویدر ریسرچ اینڈ کنسلٹنگ کی جانب سے۱۶۰۴؍ خواتین پر کیے گئے قومی سروے میں پایا گیا کہ صرف۳۲؍ فیصد خواتین ٹرمپ کی کارکردگی کو منظور کرتی ہیں۔ یہ اس تقریباً۴۶؍ فیصد خواتین سے کافی کم ہے جنہوں نے۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابات میں ان کی حمایت کی تھی۔ یہاں تک کہ جن خواتین نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، ان میں سے ایک چوتھائی اب ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ تبدیلی خاص طور پر سفید فام خواتین میں نمایاں ہے۔ بیل ویدر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ۲۰۲۴ء میں سفید فام خواتین میں ریپبلکن ڈیموکریٹس سے۵۵؍ فیصد کے مقابلے۴۴؍ فیصد آگے تھے۔ اگست۲۰۲۶ء میں یہ صورتحال الٹ گئی ہے، جہاں ڈیموکریٹس ۴۷؍ فیصد کے مقابلے۳۹؍ فیصد سے آگے ہیں۔ یہ ڈیموکریٹک سمت میں۱۹؍ پوائنٹ کی تبدیلی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو مالیات، ٹرمپ کی خواتین میں مقبولیت کو ثقافتی مسائل سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں، جنہوں نے ان کی دوسری مدتِ صدارت کی زیادہ تر خصوصیت بیان کی تھی۔ بیل ویدر سروے میں۳۸؍ فیصد خواتین نے معیشت اور زندگی کے اخراجات کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ صحت کی دیکھ بھال، میڈیکیئر اور سوشل سیکیورٹی ۱۷؍فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے، اس کے بعد جمہوریت، حکومت اور قانون کی حکمرانی۱۱؍ فیصد کے ساتھ آئی۔
مزید برآں ٹرمپ کی متعدد امتیازی پالیسیوں کو بھی اکثریتی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔تقریباً۶۸؍ فیصد نے وائٹ ہاؤس کے مجوزہ بال روم کی مخالفت کی، جس میں۴۳؍ فیصد ریپبلکن خواتین شامل تھیں۔ ٹیرف (محصولی نرخ) کی۶۳؍ فیصد نے مخالفت کی، جبکہ۶۱؍ فیصد نے اپنی ریاستوں میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی مخالفت کی۔سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ۵۵؍ فیصد نے MMR ویکسین کو تین الگ الگ شاٹس میں تقسیم کرنے کی مخالفت کی اور۵۳؍ فیصد نے گلائفوسیٹ کی پیداوار میں اضافے کی مخالفت کی۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے جلاوطنی کی۵۱؍ فیصد نے مخالفت کی، اگرچہ ریپبلکن خواتین ان کی شدید حامی رہیں۔
بعد ازاں سفید فام خواتین وسط مدتی انتخابات کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہیںسفید فام خواتین کے اعداد و شمار اس لیے نمایاں ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا گروپ تھا جس میں ریپبلکن نے حالیہ انتخابات میں خاص طور پر اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔۲۰۲۲ء میں، ایوانِ نمائندگان کے ووٹ میں ریپبلکن امیدوار سفید فام خواتین میں۸؍ پوائنٹ سے آگے تھے۔ یہ برتری۲۰۲۴ء میں بڑھ کر۱۱؍ پوائنٹس ہوگئی۔ تاہم، بیل ویدر کے تازہ ترین اعداد و شمار ڈیموکریٹس کے ۸؍ پوائنٹس آگے دکھاتے ہیں۔یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر کے اپنے عملے کے ساتھ تعلقات مبینہ طور پر کشیدہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صدور کی درجہ بندی: ٹرمپ نے خود کو سرِ فہرست رکھا، واشنگٹن، لنکن بھی پیچھے
نیویارک ٹائمز کی رپورٹر میگی ہیبرمین کے مطابق، ٹرمپ کا وہائٹ ہاؤس ’’خوش وہائٹ ہاؤس نہیں ہے‘‘ اور انہوں نے کہا کہ بہت سے عملے کے ارکان پہلے ہی جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ہیبرمین نے ایم ایس ناؤ کو بتایا، ’’زیادہ تر لوگوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ عملے پر ’’برس پڑ رہے ہیں‘‘، خاص طور پر جب سیاسی حالات ان کے موافق نہیں ہوتے۔ ہیبرمین نے کہا، ’’ہم نے جن سے بھی بات کی، ان سب کے مطابق وہ اپنے عملے کے ساتھ ناخوش ہیں۔‘‘جبکہ وہائٹ ہاؤس نے جواب میں ہیبرمین کو ذاتی طور پر نشانہ بناتے ہوئے ان پر ٹرمپ کے جنون کا الزام لگایا۔
اس کے علاوہ کیرولین لیویٹ کا جانا سوالات میں اضافہ کرتا ہےسب سے نمایاں استعفوں میں سے ایک وہائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کا ہے، جنہوں نے اس ہفتے اپنا عہدہ چھوڑ دیا جب انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ ٹرمپ نے ان کے فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ بیرونی مشیر اور ریپبلکن سیاست میں بااثر آواز رہیں گی۔