ایف ڈی اے کا حکم جاری ہوتے ہی ہندو جن جاگرن سمیتی نے کہا ’’ہندوئوں کے تہواروں کو نشانہ بنایا گیا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 2:28 PM IST | Ali Imran | Nagpur
ایف ڈی اے کا حکم جاری ہوتے ہی ہندو جن جاگرن سمیتی نے کہا ’’ہندوئوں کے تہواروں کو نشانہ بنایا گیا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
چھاپوں اور کارروائیوں کے سبب روزانہ سرخیوں میں رہنے والے ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے نے آئندہ گنیش اُتسو( گنپتی) کے دوران عام لنگر یا مہا پرساد کیلئے لائسنس کو لازمی قرار دیدیا ہے۔ ا س پر ہندوتوا وادی تنظیمیں چراغ پا ہیں اور اسے ہندو تہواروں کے خلاف سازش قرار دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال کے سیلاب کے درمیان ناگپور کے ۱۰۶؍ باشندے محفوظ
ایف ڈی اے کی ہدایات کیا ہیں؟
ایف ڈی اے نے کسی بھی بڑے پروگرام میں کھانا تقسیم کرنے سےقبل منتظمین کیلئے لائسنس حاصل کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔ نئی ہدایات میں حفظان صحت کے حوالے سے کئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔ کھانا پکاتے اور تقسیم کرتے وقت ماسک ، دستانے اور سر پر ٹوپی پہننا لازمی ہوگا۔ ساتھ ہی کھانا پکانے اور پینے کیلئے آر او واٹر کا استعمال بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خوراک کو ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کیلئے صرف ا سٹیل یا فوڈ سیف کنٹینرس استعمال کئے جائیں گے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر باسی کھانا عقیدت مندوں میں تقسیم کیا گیا تو منتظمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: انہدامی کارروئی کے دوران بی جے پی لیڈر پر حملہ
ہندوتوا وادی تنظیموں کی تنقید
ہندو جنجاگرتی سمیتی کے مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ کے ریاستی آرگنائزر سنیل گھنوٹ نے سوال کیا کہ فوڈ سیکوریٹی کے نام پر صرف ہندو تہواروں اور تقریبات کو ہی کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟ اگرچہ تکارام منڈے اچھا کام کر رہے ہیں، لیکن صرف ہندو تہواروں کو نشانہ بنانا ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکوریٹی کے نام پر لائسنس، رجسٹریشن اور ضابطوں کیلئے صرف ہندوؤں کی مذہبی روایات کو ہدف بنانا جانبداری اور انتظامی دوغلے پن کی مثال ہے۔ دوسرے مذاہب کے تہواروں پر بھی یہ اصول لاگو کیا جانا چاہئے۔دیگر مذہبی تہواروں کے دوران جیسے کہ بقرعید، رمضان عید، افطار پارٹیاں، کرسمس یا گڈ فرائیڈے پر پکایا گیا کھانا اور عوامی کھانے کی تقسیم انتظامیہ کو دکھائی نہیں دیتی، کیا اس وقت فوڈ سیفٹی کے ضوابط پر عمل کیا جاتا ہے؟ انتظامیہ کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ گھنوٹ نے مطالبہ کیا کہ محکمہ اس بات کا اعلان کرے کہ کیا یہ قوانین دوسرے مذاہب کے تہواروں پر بھی لاگو ہوں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی؟ گھنوٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ۱۴؍ کے مطابق قانون سب پر یکسا ں طور پر نافذ ہونا چاہئے اور آرٹیکل ۱۵؍ کے مطابق حکومت مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کر سکتی۔ وزارت، اراکین اسمبلی کی رہائش گاہوں اور تمام سرکاری کینٹینوں کی تلاشی لی جانی چاہئے اور وہاں کھانے کے معیار کی رپورٹ منظر عام پر لائی جانی چاہئے۔