• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کیلئے ٹرمپ کی بھرپور حمایت، ’مضبوط، بہادر اور ذہین‘ وزیر اعظم قرار دیا

Updated: October 19, 2026, 8:05 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو کی آئندہ انتخابات میں کھل کر حمایت کرتے ہوئے انہیں ’’عظیم جنگجو وزیرِاعظم‘‘ قرار دیا ہے۔ تاہم، ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اور نیتن یاہو کے لیے بدلتی عوامی حمایت کے باعث یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی تائید انتخابی نتائج پر کتنا اثر ڈالے گی۔

Netanyahu and Donald Trump. Photo: INN
نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی بنجامین نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جو اگلے ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنی سیاسی برتری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’’ایک عظیم جنگجو وزیرِاعظم‘‘ اور امن کے لیے شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے ایران پر فروری میں کیے گئے حملوں میں امریکہ کا ساتھ دینے پر بھی اسرائیلی وزیرِاعظم کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ ساتویں ماہ میں داخل ہونے والے اس تنازع نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں شدید تباہی مچائی ہے۔ اس کے نتیجے میں اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور علاقائی معیشتیں عدم استحکام کا شکار ہوئی ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’بِی بی نیتن یاہو نے شدید مخالفت کے باوجود، جس میں خود اسرائیل کے اندر سے ہونے والی مخالفت بھی شامل ہے، مضبوطی، بہادری اور غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے بیرونی ممالک کے انتخابات میں امیدواروں کی حمایت کرکے امریکہ کی دیرینہ روایت سے انحراف کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ہنگری، کولمبیا، ارجنٹینا، جاپان اور ہونڈوراس کے انتخابات میں بھی امیدواروں کی حمایت کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فجرِ یمن کارروائی کا ۱۴؍واں روز، حوثیوں سے شدید جھڑپیں

نیتن یاہو کی حمایت میں ٹرمپ کا مکمل بیان

’’اسرائیل کے عظیم عوام کے نام:

’’بی بی نیتن یاہو ایک عظیم جنگجو وزیرِاعظم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امن کے لیے اس سے بھی زیادہ عظیم شراکت دار ثابت ہوئے ہیں۔ ایران گزشتہ ۵۱؍ برس سے یہ نعرہ لگاتا آیا ہے: ’اسرائیل کی موت، امریکہ کی موت! ہم چھوٹے شیطان اور بڑے شیطان کو تباہ کردیں گے۔‘ آخر کون سا ملک ایسی باتوں کو برداشت کرتے ہوئے محفوظ رہ سکتا ہے؟ کیونکہ آخرکار ایسی باتیں حقیقت بن جاتی ہیں۔ یہ صرف وقت کی بات تھی کہ ایران اس خوف ناک نعرے کو عملی جامہ پہنا دیتا۔ لیکن ایران کو فوجی اور مالی، دونوں اعتبار سے منظم طریقے سے تباہ کردیا گیا ہے۔ اگر اس نے تیزی سے اپنا طرزِعمل تبدیل نہ کیا تو ہم جلد ہی یہ کام مکمل کردیں گے۔ اگر اسرائیل کے پاس غلط لیڈر ہوا، یعنی بِی بی کے علاوہ کوئی اور لیڈر، تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، اور میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بی بی نیتن یاہو نے شدید مخالفت کے باوجود مضبوطی، بہادری اور غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں خود اسرائیل کے اندر سے ہونے والی مخالفت بھی شامل ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور درحقیقت مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ میں نے انتہائی کٹھن حالات میں بی بی کو دیکھا ہے۔ ایسے حالات میں عام مرد یا عورت دباؤ کے سامنے ہمت ہار جاتے، لیکن بی بی نے ایسا نہیں کیا۔ وہ مزید مضبوط ہوئے اور آج بھی اسی قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو اسی نوعیت کی شراکت داری درکار ہے، کیونکہ امریکہ نے اس ملک کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ براہِ کرم اس خط کو اسرائیل کے وزیرِاعظم کے طور پر دوبارہ انتخاب کی آئندہ دوڑ میں بی بی نیتن یاہو کی مکمل اور غیر مشروط حمایت سمجھا جائے۔ بی بی نیتن یاہو آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے! اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘‘

انتخابات میں حمایت کا کتنا اثر ہوگا؟

ٹرمپ کی حمایت سے نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی جماعت ’لیکود‘ کو فائدہ پہنچنے کی ضمانت نہیں ہے۔ اسرائیل میں ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کے باعث ٹرمپ کے لیے عوامی حمایت میں کمی آئی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی امیدوار کے پاس اقتدار حاصل کرنے کا واضح راستہ نہیں ہے۔ اسرائیل میں وزیرِاعظم کا انتخاب براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے نہیں ہوتا، بلکہ پارلیمان میں مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد قائم کرکے حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ  یہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے۔ اس حملے نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور مشرقِ وسطیٰ کو بدامنی کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں جنگ شروع کی۔ یہ انتخابات طے کرسکتے ہیں کہ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کے اہم ترین ادوار میں سے ایک کے بعد بھی اقتدار میں برقرار رہتے ہیں یا ان کے مقابلے میں موجود اعتدال پسند حریف کامیاب ہوتے ہیں، جو ایک نئے دور کے آغاز کا وعدہ کررہے ہیں۔ نیتن یاہو نے فوری طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور لکھا، ’’ہم مل کر مشن مکمل کریں گے!‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد پرکاروائی کرے:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کا معاملہ

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوین نے، جن پر مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے حملہ کیا تھا، کہا ہے کہ وہ اس بات پر بڑھتی ہوئی ناراضی محسوس کررہی ہیں کہ اسرائیلی فوج بظاہر فلسطینیوں کو دھمکانے والے آبادکاروں کے مقابلے میں خود آبادکاروں کی زیادہ حفاظت کرتی ہے۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کے حساس موسم میں لیوین اور فلسطینیوں پر ہونے والے حملے کے ایک دن بعد ایک مسیحی گاؤں میں یورپی سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات نے آبادکاروں کے تشدد کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ نیتن یاہو اس تشدد کا ذمہ دار چند شرپسند عناصر کو قرار دیتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ : اسرائیلی بمباری سے تباہ گھروں کے ملبے سے برآمد ۷۵؍ فلسطینیوں کی باقیات دفن

اسپتال میں زیرِعلاج لیوین نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر ’’حیران اور دل برداشتہ‘‘ ہیں کہ نیتن یاہو نے ان پر اور دیگر افراد پر ہونے والے حملے کو مبینہ واقعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ’’وزیرِاعظم کے سامنے تمام شواہد موجود تھے۔‘‘ مقبوضہ مغربی کنارے کے مسیحی فلسطینی قصبے طیبیہ میں گزشتہ دنوں یورپی سفارت کاروں پر شدت پسند اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے بعد اتوار کو امریکی سفارت کاروں نے اس قصبے کا دورہ کیا۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت ریلی بارنس، ویٹیکن میں امریکہ کے سفیر برائن برچ اور کئی دیگر سفارت کاروں نے لاطینی کانونٹ چرچ کا دورہ کیا۔ ان کی مسیحی برادری کے ارکان سے ملاقات بھی متوقع تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK