Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہائٹ ہاؤس ڈنر پر فائرنگ کرنے والے مبینہ ملزم کے اہداف میں ایف بی آئی چیف شامل نہیں تھے

Updated: April 27, 2026, 8:03 PM IST | Washington

صدر ٹرمپ نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر فائرنگ کی آواز کو دور کا شور سمجھا تھا، لیکن خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ نے فوری طور پر صورتحال کی سنگینی کو بھانپ لیا۔ اس تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور اب یہ کسی اور وقت منعقد ہوگی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی حکام، وہائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے کے ملزم کول تھامس ایلن سے منسوب مبینہ منشور کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس منشور میں اہداف کی تفصیلی فہرست اور آپریشنل ہدایات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کو اہداف کے طور پر شناخت کیا گیا تھا، جن کی ترجیح ”اعلیٰ ترین عہدے سے ادنیٰ ترین“ تک رکھی گئی تھی۔ تاہم، متن میں واضح طور پر کش پٹیل کو اس فہرست سے خارج کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔

اس منشور میں، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، ”حملے کے قواعد“ بھی بیان کئے گئے ہیں۔ اس میں تجویز دی گئی کہ سیکریٹ سروس کو ”صرف ضرورت پڑنے پر“ نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تب بھی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ انہیں جان لیوا نقصان پہنچائے بغیر ناکارہ بنا دیا جائے۔ دیگر افراد جیسے ہوٹل کا عملہ، مہمان اور سیکوریٹی اہلکار، مبینہ طور پر ’ہدف‘ نہیں تھے جب تک کہ وہ براہِ راست خطرہ نہ بن جائیں۔ حکام نے بتایا کہ ۳۱ سالہ ایلن کے پاس شاٹ گن، پستول اور چاقو سمیت متعدد ہتھیار موجود تھے۔ دستاویز میں مبینہ طور پر ’بک شاٹ‘ کارتوس استعمال کرنے کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ جانی نقصان کو محدود رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس میں ’ایچ ون بی ویزا پروگرام‘ پر تین سالہ پابندی کا بل پیش

واضح رہے کہ فائرنگ کا واقعہ واشنگٹن ہلٹن کے بال روم کے باہر پیش آیا جہاں عشائیہ جاری تھا۔ سلامتی اہلکاروں نے فوراً مداخلت کی اور مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار زخمی ہوئے لیکن حفاظتی لباس کی وجہ سے بچ گئے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے تصدیق کی ہے کہ ملزم حراست میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر فائرنگ کی آواز کو کوئی دور کا شور سمجھا تھا، لیکن خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ نے فوری طور پر صورتحال کی سنگینی کو بھانپ لیا۔ اس تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور اب یہ کسی اور وقت منعقد ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے بدعنوانی کیس کی سماعت عین وقت پر منسوخ، سیکوریٹی وجوہات کا حوالہ

ٹرمپ نے ملزم کو ’بنیاد پرست‘ اور ’بیمار‘ قرار دے دیا

واقعے کے بعد اپنے بیان میں ٹرمپ نے مبینہ منشور کا حوالہ دیتے ہوئے ملزم کو ”بنیاد پرست“ اور ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دیا۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”میں نے منشور پڑھا ہے۔ وہ بنیاد پرست ہے... وہ شاید کافی بیمار آدمی تھا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ مشتبہ شخص کی نظریاتی حالت میں تبدیلیاں آئی تھیں۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردِعمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ بہت پیشہ ور تھے۔“ اور میلانیا ٹرمپ کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صورتحال کو بہترین طریقے سے سنبھالا اور وہ بہت مضبوط ثابت ہوئیں۔

ٹرمپ نے مشتبہ شخص کے اقدامات کو وسیع تر سیاسی بیانیے سے جوڑنے کی تجاویز کو مسترد کر دیا اور مبینہ احتجاجی تعلق کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ”اگر میں بادشاہ ہوتا تو میں آپ سے بات نہ کر رہا ہوتا۔“ صدر نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ سالانہ عشائیہ کی تقریب دوبارہ منعقد ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK