Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی نے شام سرحدی ریلوے کوریڈور بحال کر کے تجارت کو فروغ دیا

Updated: April 14, 2026, 6:03 PM IST | Ankara

ترکی نے ۱۳؍ سال بعد شام کی سرحد کے ساتھ ۳۵۰؍ کلومیٹر طویل اسٹریٹجک ریلوے کوریڈور کو بحال کر کے دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں کارکمیس۔نصیبین اور سینیورٹ۔مارڈین لائنیں شامل ہیں جو ۳۱؍ مارچ سے دوبارہ آپریشنل ہو چکی ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر یوراغلو کے مطابق، یہ صرف مرمت نہیں بلکہ مکمل جدید کاری کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد جنوب مشرقی ترکی کو عالمی تجارتی نیٹ ورک سے جوڑنا ہے۔ یہ کوریڈور مستقبل کے خلیجی یورپی تجارتی راستے کا بھی اہم حصہ ہوگا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ترکی نے ایک دہائی سے زائد تعطل کے بعد شام کی سرحد کے ساتھ واقع ایک اہم ریلوے کوریڈور کو بحال کر کے دوبارہ کھول دیا ہے، جسے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ۳۵۰؍ کلومیٹر طویل ریلوے راہداری دو اہم حصوں پر مشتمل ہے: کارکمیس۔نصیبین (۳۲۵؍ کلومیٹر) اور سینیورٹ۔مارڈین (۲۵؍ کلومیٹر)۔ یہ راستہ ۳۱؍ مارچ کو مکمل بحالی کے بعد دوبارہ فعال ہوا، جس کے ساتھ ٹرین آپریشن بھی بحال کر دیے گئے۔ ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر یوراغلو نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف مرمت تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل جدید کاری کی کوشش ہے، جس کا مقصد ملک کے جنوب مشرقی حصے کو عالمی تجارتی نظام سے منسلک کرنا ہے۔ یہ ریلوے لائن ۲۰۱۱ء سے ۲۰۲۴ء تک عملی طور پر غیر فعال رہی، جس کے دوران نہ صرف معمول کی دیکھ بھال معطل رہی بلکہ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان بھی پہنچا۔ اس کے نتیجے میں بحالی کا کام ایک مکمل تعمیر نو میں تبدیل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز پرکسی بھی وقت ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ گیا

انجینئرز نے اس منصوبے کے تحت ٹریک اور اسٹیشنوں کی بنیادوں کو دوبارہ تعمیر کیا، سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید نکاسی آب کے نظام نصب کیے، اور تقریباً ۷۵۰؍ میٹر طویل غیر مستحکم زمین کو مضبوط بنایا۔ اس کے علاوہ مختلف پلوں اور ڈھانچوں میں ۲۵۰۰؍ سے زائد گرڈرز تبدیل کیے گئے تاکہ بھاری مال برداری کو محفوظ طریقے سے ممکن بنایا جا سکے۔ کارکمیس پل سمیت اہم ڈھانچوں میں بھی نمایاں بہتری کی گئی، جس سے اس کوریڈور کی مجموعی صلاحیت اور پائیداری میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اہل غزہ کو صہیونی فورسیز نے دھمکایا:’’جلد ہی تمہارے ساحل پر کافی پئیں گے‘‘

حکام کے مطابق، یہ ریلوے راہداری مستقبل کے ایک بڑے تجارتی منصوبے کا حصہ بنے گی، جس کے تحت خلیج فارس کو یورپ سے عراق اور ترکی کے ذریعے جوڑا جائے گا۔ اس سلسلے میں منصوبہ بند اواکوئے۔نصیبین ریلوے لائن کو بھی اسی نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں کی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ یہ خطے میں لاجسٹکس، تجارت اور علاقائی روابط کو بھی مضبوط کرے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان ایک کلیدی تجارتی پل بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK