Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجین، ایم پی: امتحانی پرچے میں ”اللہ“ پر سوال پوچھنے پر ہنگامہ، یونیورسٹی نے پروفیسر کو معطل کر دیا

Updated: April 10, 2026, 3:57 PM IST | Bhopal

سمراٹ وکرمادتیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ارپن بھاردواج نے تصدیق کی کہ پرچہ تیار کرنے والے ذمہ دار پروفیسر کو انکوائری مکمل ہونے تک امتحانات سے متعلق تمام کاموں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے پروفیسر کو ’وجہ بتاؤ‘ نوٹس بھی جاری کیا ہے اور انہیں بلیک لسٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مدھیہ پردیش کے ضلع اجین میں واقع سمراٹ وکرمادتیہ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو امتحانی پرچے میں متنازع سوال پوچھنے پر احتجاج اور سیاسی ردعمل کے بعد ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ مذکورہ پروفیسر نے بی کام، بی سی اے اور بی بی اے کے سالِ سوم کے طلبہ کیلئے ’فاؤنڈیشن کورس‘ کے ہندی زبان کے پرچے میں اللہ پر ایک سوال شامل کیا تھا جس پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ کثیر متبادلات والے سوال میں پوچھا گیا تھا: ”کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے؟“ اس کے ساتھ طلبہ کو چار متبادلات (۱) سومیشور، (۲) خدا، (۳) قادرِ مطلق اور (۴)”سزا دینے والا“ دیئے گئے تھے۔ اس سوال پر ہنگامہ کے بعد پروفیسر کے خلاف کارروائی کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: عتیق احمد قتل پر تبصرہ :الہ آباد ہائی کورٹ نے مقدمہ منسوخ کرنے سے انکار کر دیا

یونیورسٹی کی جانب سے فوری کارروائی

سمراٹ وکرمادتیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ارپن بھاردواج نے تصدیق کی کہ پرچہ تیار کرنے والے ذمہ دار پروفیسر کو انکوائری مکمل ہونے تک امتحانات سے متعلق تمام کاموں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے پروفیسر کو ’وجہ بتاؤ‘ نوٹس بھی جاری کیا ہے اور انہیں بلیک لسٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

رجسٹرار انیل کمار شرما نے بتایا کہ یونیورسٹی کی امتحانی کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ سوال مقررہ نصاب کا حصہ نہیں تھا اور پرچہ تیار کرنے والے پروفیسر نے تعلیمی رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے آزادانہ طور پر شامل کیا تھا۔ معاملے کو امتحانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو سوالات مرتب کرنے اور ان کی جانچ کے عمل کا جائزہ لے گی۔ وہ اس بات کی بھی تحقیق کرے گی کہ آیا پرچے کو حتمی شکل دینے سے پہلے مناسب چیکنگ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: آسام الیکشن: مسلمانوں اور اپوزیشن لیڈر کے غلط معلومات پر مبنی اے آئی ویڈیوز

ادارے کے اندرونی ذرائع نے نوٹ کیا کہ فاؤنڈیشن کورس میں متعدد مذاہب کے حوالے شامل ہیں، لیکن اس سوال کی ترتیب غیرمعمولی تھی اور یہ عام روایت کے مطابق نہیں تھی۔

امتحان اور جانچ کے حوالے سے خدشات

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، ماہرین کی کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ سوال تعلیمی معیار کے مطابق ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر سوال نامناسب پایا گیا تو یونیورسٹی اس سوال کو جانچ کے دائرے سے نکالنے پر غور کر سکتی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طلبہ کو نمبر کس بنیاد پر دیئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندو ایم ایل اے منتخب کریں: کیرالا میں بی جے پی امیدواروں کی اسلام مخالف مہم

احتجاج اور سیاسی ردِعمل

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوالیہ پرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ اس کے بعد کئی تنظیموں نے متنازع سوال پر اعتراض کیا۔ ہندوتوا گروپس کے ساتھ ترانہ سے کانگریس ایم ایل اے مہیش پرمار اور مذہبی لیڈر شانتی سروپانند گری نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اجین میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جن میں کچھ تنظیموں نے نظریاتی جانبداری کا الزام لگایا اور سوال کو تعلیمی امتحان کیلئے نامناسب قرار دیا۔

یہ تنازع اس لئے بھی زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ اجین، مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ موہن یادو کا آبائی ضلع ہے، جس سے اس معاملے کو سیاسی رنگ بھی دیا جارہا ہے۔ فی الحال انکوائری جاری ہے اور مزید کارروائی کمیٹی کے نتائج پر منحصر ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK