Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ اے آئی بل: حکومت کواے آئی نظام بند کرنے کے نئے اختیارات دینے پر غور

Updated: May 18, 2026, 9:43 AM IST | London

برطانیہ میں قانون ساز حکومت کو اے آئی نظام بند کرنے کے نئے اختیارات دینے پر غور کررہے ہیں، اس تجویز کو، جسے اکثر اے آئی ’’کل سوئچ‘‘ (خاموشی کا بٹن) کہا جاتا ہے، ملک کے سائبر سیکیورٹی اور لچک بل میں ترامیم کے حصے کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کے قانون ساز سنگین خطرات کی صورت میں حکومت کو مصنوعی ذہانت کے نظام بند کرنے کے نئے اختیارات دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس تجویز کو، جسے اکثر اے آئی’’ کل سوئچ‘‘ (خاموشی کا بٹن) کہا جاتا ہے، ملک کے سائبر سیکیورٹی اور لچک بل میں ترامیم کے حصے کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔اس خیال کو ارکانِ پارلیمان (MPs) اور مہم چلانے والی تنظیموں کے ایک گروپ کی حمایت حاصل ہے، جن کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو جدیداے آئی نظاموں سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ٹولز کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ اورایران پرمغربی میڈیا کی رپورٹنگ ’غیرانسانی بنانے‘ پر مبنی ہے: صحافی اسکاہل

بعد ازاں مجوزہ ترمیم وزراء کو بحران کے دوران ڈیٹا سینٹرز یا اے آئی نظام بند کرنے کا اختیار دے گی۔ تاہم یہ اختیارات صرف انتہائی صورتوں میں استعمال کیے جائیں گے، جیسے قومی سلامتی، اہم بنیادی ڈھانچے، یا لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کے خطرات۔ اس تجویز کے تحت، ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کو ایسے نظام تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی جو حکومت کی ہدایت پر فوری بندش کی اجازت دیں۔ اس کے علاوہ انہیں ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی یقینی بنانے کے لیے حکام کے ساتھ محفوظ مواصلاتی روابط بھی قائم کرنے ہوں گے۔
ارکانِ پارلیمان خدشات کیوں اٹھا رہے ہیں؟
تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور نئےقسم کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ان میں سائبر حملے، جدید نظاموں کا غلط استعمال، اور بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات شامل ہیں۔ساتھ ہی اے آئی ٹیکنالوجی میں حالیہ پیش رفت کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ نظاموں نے سافٹ ویئر میں کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے، جس سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ حقیقی دنیا کے منظرناموں میں ایسے ٹولز کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔قانون سازوں کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
دریں اثناءاس تجویز کو کم از کم۱۱؍ ارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل ہے، جن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل ہیں۔ مہم گروپ ’’کنٹرول اے آئی‘‘ بھی اس اقدام کی حمایت کر رہا ہے اور اس نے پہلے ہی سخت اے آئی ضابطوں کے لیے ۱۰۰؍ سے زائد پارلیمان کی حمایت حاصل کر لی تھی۔ تاہم، برطانوی حکومت نے ابھی رسمی طور پر اس ترمیم کی توثیق نہیں کی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وسیع تر سائبر سیکیورٹی بل کا مقصد ڈیجیٹل خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمن چانسلر مرز کا بیان: میں اپنے بچوں کو امریکہ میں پڑھنے یا کام کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا

یاد رہے کہ یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کی حکومتیںاے آئی ریگولیشن پر اپنی توجہمرکوز کررہی ہیں۔ زیادہ تر جدیداے آئی نظام اس وقت ریاستہائے متحدہ میں واقع ڈیٹا سینٹرز میں قائم ہیں، جو مختلف ممالک کے خطرات کے انتظام میں پیچیدگی کا اضافہ کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں، حکومتوں اور صنعت کے مالکان کے درمیان بھی گفتگو  جاری ہے کہ جدت اور ریگولیشن میں توازن کیسے رکھا جائے۔
جبکہ بعض قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ جدیداے آئی نظام بے قابو چھوڑے جانے پر سنگین خطرات لاحق کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مربوط سائبر حملے یا طاقتوراے آئی ٹولز کا غلط استعمال توانائی، نقل و حمل اور مواصلاتی نیٹ ورک جیسے اہم نظاموں کو متاثر کر سکتا ہے۔ چناچہ مجوزہ ’’ کل سوئچ‘‘ کو ایسے منظرناموں کو روکنے کے لیے آخری حربے کے اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
آگے کیا ہے؟
اگر ترمیم کو بحث کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تو پارلیمان میں اس پر بحث متوقع ہے۔ نتیجہ سیاسی حمایت اور ٹیکنالوجی اور جدت کے حوالے سے وسیع تر پالیسی تحفظات پر منحصر ہوگا۔ اگر منظور ہوتی ہے تو یہ تجویز ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کے لیے نئی ضروریات متعارف کرا سکتی ہے اور برطانیہ میں اے آئی نظاموں کے انتظام کے طریقے کو بدل سکتی ہے۔یہ بحث حکومتوں کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنجبھی پیش کرے گی، تکنیکی ترقی کی حوصلہ افزائی کیسے کی جائے جبکہ تیزی سے ترقی پذیراے آئی نظاموں میں حفاظت اور عوام کا اعتماد یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK