• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: قونصل خانہ بند کرنے کے اسرائیلی حکم کے باوجو دسفارتی مشن جاری

Updated: October 08, 2026, 10:03 PM IST | London

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے باوجود برطانیہ اپنا سفارتی مشن جاری رکھے گا،جبکہ دونوں اتحادیوں کے مابین بات چیت جاری ہے، اس اقدام سے فوری کشیدگی کو ٹال دیا گیا ہے۔

British Consulate. Photo: X
برطانیہ کا قونصل خانہ۔ تصویر: ایکس

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے باوجود برطانیہ اپنا سفارتی مشن جاری رکھے گا،جبکہ دونوں اتحادیوں کے مابین بات چیت جاری ہے، اس اقدام سے فوری کشیدگی کو ٹال دیا گیا ہے۔مسٹر ملی بینڈ نے کہا کہ قونصل کی عمارت ایک نئے نام، یو کے مشن، یروشلم کے تحت آزاد اور فعال رہے گی، اور شہر اور وسیع مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی خدمت جاری رکھے گی۔اسرائیلی وزیر خارجہ گدیون ساعر نے کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ ماہ اعلان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کیا ہے، لیکن دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانوی قونصل خانے نے شہر میں اپنا کردار ختم کر دیا ہے اور۱۹؍ سفارت کار اسرائیل چھوڑ دیں گے، جبکہ سات برطانوی سفارت کاروں پر مشتمل ٹاسک فورس کو محدود اختیارات کے ساتھ عمارت سے کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے اکتوبر حملے کی وارننگ میں اپنے مفاد کے مطابق ہیرا پھیری کی

 ملی بینڈ نے کہا،’’اسرائیلی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد، ہمارے قونصل جنرل کی عمارت بند نہیں ہوگی، اسے یو کے مشن، یروشلم کے نام سے جانا جائے گا، اور یہ آزاد اور فعال ہوگا۔‘‘واضح رہے کہ یہ تنازع مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ملی بینڈ نے کہا،’’ہم واضح کر چکے ہیں کہ ہم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ اسرائیلی حکومت کو یروشلم میں برطانوی قونصل جنرل کو بند کرنے کا قانونی حق حاصل ہے، جو تقریباً۲۰۰؍ سالوں سے وہاں موجود ہے،برطانیہ کی حکومت اپنے دیرینہ موقف کو دہراتی ہے کہ مشرقی یروشلم مقبوضہ علاقہ ہے۔‘‘دراصل ان کا اعلان عمارت کو برطانوی قونصل جنرل کے طور پر شناخت کرنے والے نشانات اور تختیوں کو ہٹانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ جمعرات کو بھی مشن کی شناخت کرنے والے اشارے غائب تھے، حالانکہ برطانوی پرچم عمارت کے اوپر لہراتا رہا۔
جبکہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ کشیدگی سے بچتے ہوئے فلسطینیوں کے لیے اپنی سفارتی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ تاہم برطانیہ کے مشرق وسطیٰ کے وزیر اسٹیفن ڈوٹی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ یہ انتظام ایک سیاسی چال کی نمائندگی کرتا ہے جس سے برطانیہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مشن کھلا رہا جبکہ اسرائیل دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے اسے بند کر دیا ہے۔انہوں نے کہا،’’عمارت کھلی رہتی ہے۔ ہمارے پاس اہم کام کرنے کے قابل عملہ موجود ہے، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مشغول، برطانوی شہریوں کی مدد، اور ہم اس معاملے پر اسرائیل کے ساتھ جاری بات چیت میں مصروف ہیں ۔نام کی تبدیلی سے قطع نظر، یہ بہت ضروری ہے کہ برطانیہ کی موجودگی باقی رہے۔ہم آنے والے مہینوں میں اپنی موجودگی کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے کام کریں گے۔‘‘ حالانکہ برطانیہ نے حالیہ ہفتوں میں کئی سفارت کاروں، عملے اور خاندان کے افراد کو واپس بلا لیا ہے۔
مزید برآں وزیر خارجہ نے کہا کہ انخلاء ضروری تھا کیونکہ برطانیہ کو سیکیورٹی کی کافی ضمانتیں نہیں ملی تھیں۔ برطانیہ نے عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عارضی طور پر متعدد عملے اور خاندانوں کو واپس بلا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز

ذہن نشین رہے کہ قونصل خانہ یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو سنبھالتا ہے اور فلسطینیوں کو قونصلر خدمات فراہم کرتا ہے۔ یروشلم میں برطانیہ کی سفارتی موجودگی تقریباً۲۰۰؍ سال پرانی ہے، جو۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے کی ہے۔یاد رہے کہ برطانیہ کے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کردہ سامان کی درآمد پر پابندی اور آبادکاری کی سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے خلاف پابندیوں سمیت اقدامات کا اعلان کرنے کے بعد اسرائیل نے قونصل خانے کو۳۰؍ دن کے اندر بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گدیون ساعرنے کہا کہ۸؍ ستمبر کو اعلان کردہ چاروں اقدامات پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے، بشمول کریات گٹ میں انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کو ہٹانا، مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی فورسیزکو تربیت دینے کے لیے برطانوی سرگرمی ختم کرنا، اور۱۲؍ برطانوی حکام اور دیگر شہریوں کو اسرائیل میں داخلے سے روکنا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے برطانیہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا،’’کوئی بھی ملک جو اسرائیل کے خلاف کارروائی کرے گا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘‘علاوہ ازیں ملی بینڈ نے اس قیاس آرائی کو بھی کم کرنے کی کوشش کی کہ برطانیہ اسرائیلی سفارت کاروں کو نکال کر جوابی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا،’’ہم جوابی کارروائی نہیں کریں گے جب تک کہ اس طرح کی بات چیت جاری ہے اور قابل اعتبار ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا : پورے ملک میں فلسطین حامی مظاہرے، اسرائیل پر اسلحہ پابندی کا مطالبہ

دریں اثناء ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ  اگر اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے پر مجبور کیا،  تو برطانیہ اسرائیلی سفارت کاروں کو نکالنے پر غور کر رےگا۔ جبکہ اس طرح کا اقدام دونوں ممالک کے درمیان انتہائی غیر معمولی کشیدگی کی نمائندگی کرتا جو قریبی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس شراکت دار ہیں۔یہ تصادم برطانیہ-اسرائیل تعلقات میں ایک اور تیز بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے ،برطانیہ نے غزہ میں اسرائیل کے طرز عمل اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں پر بارہا تنقید کی۔ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت نے برطانیہ کی لیبر حکومت پر اسرائیل کے خلاف دشمنی کا الزام لگایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK