مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکار تشدد کے خلاف ۱۲؍ ممالک کا دباؤ؛ اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 3:58 PM IST | London/Paris/Ottawa
مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکار تشدد کے خلاف ۱۲؍ ممالک کا دباؤ؛ اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک نے بھی ایسی پابندیوں کی حمایت یا اپنے ہاں اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ۱۲؍ ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کا تشدد ۲؍ ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پالیسی میں نمایاں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لندن اب صرف ناانصافی کی نشاندہی کرنے پر اکتفا نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے اسے روکنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ برطانیہ نے آبادکاری میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف مزید پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ E1 علاقے میں نئی بستیوں کے منصوبوں سے متعلق سرگرمیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں ۵۸؍ فیصد کی کمی: کنیسیٹ کمیٹی
فرانس نے اپنے فیصلے کی وجہ مغربی کنارے میں بستیوں کی ’’تیز رفتار توسیع‘‘ اور تشدد میں اضافے کو قرار دیا۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیاں ۲, ریاستی حل کے بنیادی مقصد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ مشترکہ بیان میں ۱۲, ممالک نے اسرائیلی حکومت سے بستیوں کی توسیع اور فلسطینی علاقوں میں سول انتظامی اختیارات بڑھانے کا عمل فوری روکنے اور آبادکاروں کے تشدد پر جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
ان اقدامات کا اقتصادی اثر فوری طور پر محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے ہونے والی برآمدات اسرائیل کی مجموعی برآمدات کا بہت چھوٹا حصہ ہیں۔ ان بستیوں کی اہم مصنوعات میں کھجور، ترش پھل، جڑی بوٹیاں اور شراب شامل ہیں۔ تاہم مغربی ممالک کی جانب سے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر بستیوں سے تجارت کو ہدف بنانا اسرائیل کی آبادکاری پالیسی کے خلاف بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کی علامت سمجھا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اقوام متحدہ کے سربراہ کا عالمی تعاون کو درپیش مشکلات کے باوجود امن کے عزم پر زور
اسرائیل نے فیصلے پر فوری جوابی کارروائی کی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ۸؍ ستمبر کو اعلان کیا کہ مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ غزہ کے لیے امریکہ کی قیادت میں قائم رابطہ مشن میں بھی مزید حصہ نہیں لے سکے گا، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کی برطانوی تربیت بھی ختم کی جائے گی۔ اسرائیل نے بعض برطانوی شخصیات اور دیگر افراد کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ساعر نے برطانیہ کے فیصلے کو اسرائیل کے اندرونی معاملات اور آئندہ انتخابات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ملی بینڈ کے اسرائیلی پالیسیوں سے متعلق الزامات کو مسترد کیا۔ اسرائیل میں قومی انتخابات اکتوبر کے آخر میں متوقع ہیں اور ساعر کے مطابق جوابی اقدامات وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشاورت سے کیے گئے۔
امریکہ نے اتحادی ممالک کے اس اقدام کی حمایت نہیں کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ ایسی پابندیاں مغربی کنارے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہیں، جبکہ واشنگٹن نے اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد روکنے سے انکار کیا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی سمیت دیگر شخصیات نے بھی برطانوی فیصلے پر تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سنگاپور: دنیا کے اعلیٰ ترین تنخواہ دار وزیراعظم کا اضافی تنخواہ وقف کرنے کا عہد
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپی یونین کے ۲۷؍ رکن ممالک اسرائیلی بستیوں کے خلاف مشترکہ تجارتی پابندی پر اتفاق نہیں کر سکے۔ جرمنی اور بعض دیگر ممالک کی مخالفت کے باعث یورپی سطح پر مشترکہ فیصلہ تعطل کا شکار ہے، جس کے بعد برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر ممالک نے قومی سطح پر اقدامات کا راستہ اختیار کیا۔ اس سے قبل اسپین، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، ناروے اور بیلجیم بھی بستیوں سے متعلق تجارتی پابندیوں کے اقدامات کرچکے ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد اسرائیلی عوام یا اسرائیل کے اندر ہونے والی معمول کی تجارت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع اور ان سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ۱۲؍ ممالک نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جائز سلامتی کی ضروریات کو تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ۲؍ ریاستی حل کے تحت اسرائیل اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے پرامن قیام کو اپنی پالیسی کا بنیادی مقصد قرار دیتے ہیں۔