Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: نئی اصلاحات کے تحت بچوں کو یونیورسٹی کے بجائے تکنیکی تعلیم کی ترغیب

Updated: July 30, 2026, 11:01 AM IST | London

برطانیہ میں نئی تعلیمی اصلاحات کے تحت بچوں کو یونیورسٹی کے بجائے تکنیکی تعلیم کا انتخاب کرنے کی ترغیب دی جائے گی، تجاویز کا مقصد دسویں جماعت کے طلباء کو انگریزی اور ریاضی جیسے بنیادی مضامین کو مقامی ملازمتوں سے منسلک تکنیکی تعلیم کے ساتھ یکجا کرنے کی اجازت دے کر زیادہ نوجوانوں کو ملازمت میں لانا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

برطانوی حکومت نے منگل کو۱۴؍ سال اور اس سے زیادہ عمر کے طلبہ کے لیے نئی تکنیکی تعلیمی راہیں متعارف کرانے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جو نوجوانوں کی بے روزگاری سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔یہ تجاویز دسویں جماعت کے طلباء کو انگریزی اور ریاضی جیسے بنیادی تعلیمی مضامین کو ان کے مقامی علاقے میں دستیاب ملازمتوں سے منسلک تکنیکی تعلیم کے ساتھ یکجا کرنے کی اجازت دے کر زیادہ نوجوانوں کو کام میں لانےکے مقصد سے پیش کی گئی  ہیں۔یہ منصوبے حکومت کے تازہ ترین اقدامات ہیں تاکہ ان نوجوانوں کی تعداد کو حل کیا جا سکے جو ملازمت، تعلیم یا تربیت میں نہیں ہیں، جو ۱۶؍ سے۲۴؍ سال کی عمر کے افراد میں تقریباً دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یو اے ای نے دنیا کے پہلے مکمل طور پر مربوط اے آئی پر مبنی عدالتی پلیٹ فارم کا افتتاح کیا

بعد ازاں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم چاہتے ہیں کہ اسکول نگراں کارتکنیکی تعلیم کے معیار اور اسکولوں کی طلبہ کو ملازمت کے لیے تیار کرنے کی اہلیت کو تسلیم کریں، بجائے اس کے کہ بنیادی توجہ یونیورسٹی میں داخلے پر مرکوز ہو۔دریں اثناء  ان تجاویز کی مالی معاونت نئے فنڈز سے نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی ادائیگی حکومت کے موجودہ وعدوں کے ذریعے کی جائے گی۔برنہم نے ایک بیان میں کہا: ’’اس ملک میں بہت طویل عرصے سے طلبہ کو بتایا جاتا رہا ہے کہ کامیابی اور عزت حاصل کرنے کے لیے آپ کو تعلیمی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پورا اسکول نظام اسی کے گرد بنایا گیا ہے اور اس نے تکنیکی قابلیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔میں تعلیمی اور تکنیکی کے درمیان برابری پر مبنی تعلیمی نظام چاہتا ہوں جو تمام نوجوانوں کو زندگی میں ایک واضح راستہ فراہم کرے۔ آج سے برطانیہ ہارڈ ہیٹ کو گریجویشنکے مساوی  قدر دے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اپنی دیوار گیر تصویر پر پیڈرو سانچیز نے فلسطینی بچی لیان اور فنکاروں کا شکریہ ادا کیا

برنہم نے مزید کہا کہ ،’’تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی میں، ہم۱۴؍ سال کی عمر سے نئی تکنیکی تعلیمی راہیں متعارف کرائیں گے –یہ باوقار راستے طلبہ کو بنیادی تعلیمی مضامین کو ان مہارتوں، تکنیکی علم اور تجربے کے ساتھ یکجا کرنے کا موقع دیں گے جن کی انہیں اپنے علاقے میں معیاری، اچھی تنخواہ والی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔ میرا نوجوانوں کو پیغام یہ ہے کہ چاہے آپ تعمیرات، کوڈنگ یا کلاسیکی علوم، یا ریاضی، مینوفیکچرنگ یا مکینکس کا انتخاب کریں، آپ کو وہ مہارتیں ملیں گی جن کی آپ کو ضرورت ہے اور آپ کو وہ عزت دی جائے گی جس کے آپ مستحق ہیں۔برطانیہ میں نوجوانوں کی بے روزگاری کے بحران کو حل کرنے کے لیے ہمارے کام کرنے کے طریقے میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہوگی اور یہی کام یہ حکومت کرے گی۔ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہمارا تعلیمی نظام ہمارے نوجوانوں کے لیے کوئی بند راستہ نہ چھوڑے۔ آج ہم جن تبدیلیوں کا اعلان کر رہے ہیں وہ پورے ملک میں مواقع اور امید کی بحالی کے لیے ہمارے کام کا صرف آغاز ہوں گی۔‘‘
واضح رہے کہ یہ اعلان ایلن ملبرن کی ایک عبوری رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ برطانیہ کو گمشدہ نسل کا خطرہ ہے، جس میں۱۶؍ سے۲۴؍ سال کی عمر کے تقریباً دس لاکھ افراد تعلیم، ملازمت یا تربیت میں نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK