Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میںاے آئی ملازمتیں ختم نہیں کریگی بلکہ معاون بنے گی

Updated: July 30, 2026, 11:00 AM IST | New Delhi

گولڈ مین سکس کے مطابق مصنوعی ذہانت ۴۲؍ تا ۴۸؍ فیصد نوکریوں میں کارکردگی کی بہتری کا سبب بنے گی، ۱۲؍ فیصد ملازمتوں  کے ختم ہونے کا اندیشہ برقرار۔

AI will not take jobs in India, but will lead to employment growth. Photo: INN
اے آئی ہندوستان میں روزگار لے گا نہیں بلکہ روزگار میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ تصویر: آئی این این

مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے ملازمتوں کو لاحق خطرات کے اندیشوں کو بڑی حدتک دور کرتے ہوئے گولڈمین سکس  نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیش گئی کی ہے کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت(جین -اے آئی) ہندوستان  کے غیر زرعی شعبے  کے ۱۷؍ فیصد تک کام کو خودکار بنا سکتی ہے تاہم اس سے ملازمتیں ختم ہونے کے بجائے ان کی کارکردگی میں بہتری آنے کا زیادہ امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق  ملک کی ورک فورس کا تقریباً نصف اے آئی کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے  استعمال کر سکے گا جبکہ ۸؍ تا ۱۲؍ فیصد ملازمتوں کی جگہ اے آئی لے سکتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق  ہندوستان کے غیر زرعی شعبے میں۴۲؍تا ۴۸؍ فیصد ملازمتیں ایسی ہیں جن میں اے آئی انسانی کام کی تکمیل اور معاونت کرے گی جبکہ باقی افرادی قوت پر اس کا اثر محدود رہے گا۔ گولڈمین سکس کا کہنا ہے کہ آئندہ ۱۰؍ برسوں میں اے آئی بڑے پیمانے پر روزگار ختم کرنے کے بجائے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کرے گی، معمول کے دہرائے جانے والے کام خود انجام دے گی اور کارکنوں کو زیادہ اہم اور قدر افزا سرگرمیوں پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرے گی۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب آئی ٹی سروسیز، بینکاری، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں کی کمپنیاں جنریٹو اے آئی میں اپنی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھا رہی ہیں۔ گولڈمین سکس کے مطابق  ہندوستان  کے غیر زرعی شعبے میں اس وقت انجام دیئے جانے والے مجموعی کاموں میں سے۹؍ سے ۱۷؍  فیصد تک اے آئی کے ذریعے خودکار بنائے جا سکتے ہیں، جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے ترقی کرتی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: ثقافت پر مبنی سفر ہندوستانیوں کی پہلی پسند بنا: رپورٹ

۹؍ تا ۱۷؍فیصد

کام جو غیر ذرعی شعبہ کے ہیں وہ اے آئی انجام دے سکتی ہے

۸؍ تا۱۲؍فیصد

 غیر ذرعی شعبہ کی ملازمتوں کی متبادل اے آئی بن سکتی ہے

۴۲؍ تا ۴۸؍فیصد

 غیر ذرعی شعبہ کی ملازمتوں  میں اے آئی معاون بنے گی اور کارکردگی کو بہتر بنائےگی

علم پر مبنی شعبوں میں اے آئی معاون ہوگی

گولڈ مین سکس نے پوری ملازمت کی جگہ  اس کے  مختلف کاموں  میں اے آئی کے رول کے امکان کا جائزہ لیا  ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر پیشوں میں کچھ کام اے آئی انجام دے سکے گی جبکہ فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت اور جسمانی محنت کیلئے انسانوں کی ضرورت رہے گی۔ علم پر مبنی شعبے، جیسے تعلیم، صحت، میڈیا، مالیاتی خدمات اور پیشہ ورانہ خدمات، اے آئی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ ان شعبوں میں ملازمین اپنا زیادہ وقت معلومات کا تجزیہ کرنے، مواد تیار کرنے اور فیصلے کرنے میں صرف کرتے ہیں، جن میں اے آئی مؤثر مدد فراہم کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملک میں دولت پیدا کرنے والوں کی ۳۶۰؍ون فہرست میں ٹاپ ۳؍ میں ۳؍ہندوستانی

کون سے شعبے متاثر نہیں ہوں گے؟

* تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور کان کنی جیسے شعبے نسبتاً کم متاثر ہوں گے کیونکہ ان میں جسمانی محنت کا کردار زیادہ ہے۔

* اسی  طرح  خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اے آئی ہندوستان  کی آؤٹ سورسنگ صنعت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، تاہم گولڈمین سکس کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد اس کے برعکس ہیں۔

کن شعبوں میں بہتری آئے گی؟

* صحت، تعلیم، مالیاتی اور پیشہ ورانہ خدمات میں تشخیص اور ڈیٹا تجزیے کے ذریعے کام میں بہتری آئے گی۔

* ہندوستان کیلئےسب سے بڑا چیلنج ہنر مند افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کی محدود صلاحیت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان میں زلزلے کے بعد سونی کا کُوما موٹو سیمی کنڈکٹر پلانٹ بند

کن شعبوں میں زیادہ خطرہ ہے؟

* آئی ٹی سے وابستہ بزنس پروسیس سروسز(بی پی ایس)، ڈاک اور ٹیلی کام جیسے شعبوں میں دہرائے جانے والے اور وہ کام جن کی کوڈنگ آسانی سے ہوسکتی ہےکو خطرہ ہے۔ اے آئی ان کا متبادل بن سکتی ہے۔ 

* معمول کے دفتری اور کلریکل کام میں تعاون سے وابستہ ملازمین کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ بعض پیشہ ور افراد، تکنیکی ماہرین اور کسٹمر سروس کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ 

نئی ملازمتوں کی امید:جسمانی محنت، ہنرمند کاریگری اور مشین چلانے سے متعلق ملازمتوں  کے مواقع   بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ایسے کاموں کو اے آئی کے ذریعے خودکار بنانا ابھی مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK