Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: اسکول میں دیئے جانے والے پکوانوں میں تبدیلی، شکراور تلی اشیاء پر پابندی

Updated: April 14, 2026, 10:24 PM IST | London

برطانوی حکومت نے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے اسکول کے کھانوں میں بڑی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت زیادہ شکر، نمک اور ڈیپ فرائیڈ اشیاء کو محدود یا مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، جبکہ پھل، سبزیاں اور اناج بڑھایا جائے گا۔ بریجیٹ فلپسن نے اسے ایک دہائی میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا۔ یہ اقدامات بچوں میں بڑھتے موٹاپے اور دانتوں کی بیماریوں کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں، جن پر صحت کے حکام نے تشویش ظاہر کی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانوی حکومت نے اسکول کے کھانوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے اور غیر صحت مند غذائی عادات پر قابو پانا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے متعارف کرائی گئی ان اصلاحات کے تحت اسکولوں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ اپنے مینو سے زیادہ شکر، نمک اور چکنائی والی اشیاء کو نمایاں طور پر کم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیپ فرائیڈ اشیاء پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ صحت بخش متبادل جیسے پھل، سبزیاں اور اناج زیادہ مقدار میں فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ حکام کے مطابق، ہفتے کے بیشتر دنوں میں میٹھے ناشتے کو بھی ختم کر کے صحت مند آپشنز سے تبدیل کیا جائے گا تاکہ بچوں کی غذائی عادات میں بہتری لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: سوڈان : خوراک کا بحران،لاکھوں افراد کودن میں صرف ایک وقت کا کھانانصیب

بریجیٹ فلپسن نے اس اقدام کو ’’ایک نسل میں اسکول کے کھانے کی سب سے اہم اور بڑی تبدیلی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو ایسا کھانا ملنا چاہیے جو نہ صرف مزیدار ہو بلکہ اس کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں بھی مدد دے۔ یہ اصلاحات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر تین میں سے ایک بچہ پرائمری اسکول ختم کرتے وقت زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شکر کے زیادہ استعمال کو بچوں میں دانتوں کی بیماریوں کی بڑی وجہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کے ساتھ مفت ناشتے کے کلبوں کو بھی وسعت دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے نہ صرف بچوں کو بہتر غذائیت ملے گی بلکہ خاندانوں پر مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔

یہ بھی پرھئے: اہل غزہ کو صہیونی فورسیز نے دھمکایا:’’جلد ہی تمہارے ساحل پر کافی پئیں گے‘‘

شیرون ہوجسن نے کہا کہ یہ اقدامات بچوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مزید برآں، اسکولوں کو اپنے مینو کو شائع کرنے اور غذائی معیار کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص گورنر مقرر کرنے کی ہدایت دی جائے گی، جس سے والدین کے لیے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ اصلاحات ۲۰۲۷ء سے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ اس سے قبل نو ہفتوں کی عوامی مشاورت بھی کی جا رہی ہے تاکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو شامل کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، اگر ان اقدامات پر مؤثر طریقے سے عمل کیا گیا تو یہ بچوں کی صحت کو بہتر بنانے اور مستقبل میں بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK