• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکرین جنگ: سخت موسمِ سرما میں بچے حرارت اور بجلی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں

Updated: January 17, 2026, 9:12 PM IST | Kyiv

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں جنگ کا جاری بحران اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں نے اس سردی میں بچوں کو شدید سردی، بجلی اور گرم پانی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے بچوں کی صحت و زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اقوامِ متحدہ کے اطفال کے عالمی ادارہ یونیسیف نے ۱۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ کا چوتھا موسمِ سرما اب تک کے سب سے زیادہ خطرناک اور مشکل ثابت ہوا ہے، کیونکہ توانائی اور پانی کے بنیادی نظام پر ہونے والے حملوں نے بچوں اور ان کے خاندانوں کو شدید سردی، بجلی اور حرارت سے محروم کر دیا ہے۔ یونیسیف کے نمائندہ منیر ممدزیدے نے جنیوا میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ منفی ۱۸؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک کی شدید سردی اور انفراسٹرکچر پر مسلسل حملوں نے ملک بھر میں لاکھوں خاندانوں کو دنوں تک بجلی، حرارت اور صاف پانی کے بغیر رہنے پر مجبور کر دیا ہے، جس نے بچوں کو ’’مسلسل بقا کے موڈ‘‘ میں ڈال دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۶؍ کروڑ ٹن ملبہ موجود، صاف کرنے میں ۷؍ سال سے زیادہ درکار: یو این اہلکار

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے بیشتر شہروں، بشمول دارالحکومت کیف، میں سردیوں کی اس لہریں یہاں کے بیش تر باشندوں کو گرمائش اور روشنی کے بغیر چھوڑ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں والدین اپنے بچوں کو نارمل رہائش میں رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ بہت سے خاندان اپنی کھڑکیوں پر نرم کھلونے اور کپڑے بھر کر سردی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں کو رات کے وقت سڑکوں پر قائم خیموں میں جا کر گرم ہونا پڑ رہا ہے۔ یونیسیف نے بتایا کہ ان خیموں میں نہ صرف گرم خوراک اور بجلی فراہم کی جا رہی ہے، بلکہ نفسیاتی مدد، کھیلنے کے سامان، اور بچوں کے لیے دیگر سہولیات بھی موجود ہیں، تاکہ سردی اور جنگ کے دباؤ سے بچوں کو کچھ راحت مل سکے۔

یہ بھی پڑھئے: یو این کا انتباہ؛ ۲۰۲۶ء میں مغربی و وسطی افریقہ میں ساڑھے ۵ کروڑ افراد شدید بھوک کا سامنا کرسکتے ہیں

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی سردی، راتوں کا بڑھتا دورانیہ اور پانی و بجلی کی عدم دستیابی بچوں کی صحت، ذہنی تندرستی اور جسمانی نشوونما پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔ خاص طور پر نوزائیدہ بچوں میں ہائپوتھرمیا (سردی کی وجہ سے جسمانی درجہ حرارت کم ہونا) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جو ایک حیاتیاتی خطرہ ہے۔ یونیسیف نے کہا کہ تعلیم بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ اسکول بجلی کی بندش کی وجہ سے آن لائن تعلیم فراہم نہیں کر پا رہے، جس سے بچوں کی پڑھائی میں خلل پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال جنگ کے تسلسل کی یاد دہانی ہے، جو لاکھوں بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کے لیے نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اثرات بھی چھوڑ رہی ہے۔
ادارے نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے فوری فنڈنگ اور امدادی سامان فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ بچوں کو گرمائش، خوراک، پانی، بجلی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ یونیسیف کے مطابق اس سرد ترین موسمِ سرما میں بچوں کی حالت ہمیشہ سے زیادہ خطرناک ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں کی صحت اور زندگیاں بڑے پیمانے پر متاثر ہو سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK