Updated: January 17, 2026, 10:02 PM IST
| Gaza
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ۳۷؍ بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر پابندی فلسطین میں نسل کشی سے بچ جانے والے افراد کے لیے زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام انسانی امداد کو مفلوج کرنے اور اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔
غزہ کی موجودہ صورتحال۔ تصویر: ایکس
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ۳۷؍ بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر عائد کی گئی پابندی نے فلسطین، بالخصوص غزہ میں، نسل کشی سے بچ جانے والے افراد کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف انسانی ہمدردی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے آزاد ماہرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ جن علاقوں میں لوگ پہلے ہی شدید بمباری، نقل مکانی، قحط، بیماریوں اور بنیادی سہولیات کی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، وہاں امدادی تنظیموں کی سرگرمیاں روکنا درحقیقت فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب غزہ کے لاکھوں باشندے خوراک، صاف پانی، ادویات، پناہ گاہ اور طبی سہولتوں کے لیے مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے
ماہرین کے مطابق اسرائیلی حکومت نے دسمبر کے اواخر میں ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کے تحت امدادی اداروں پر محض سیاسی بنیادوں یا اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کے سبب پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس قانون نے انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے اور ان پر کام جاری رکھنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے امدادی کارکنوں، طبی عملے اور رضاکاروں کو منظم ہراسانی، بدنامی کی مہمات، گرفتاریوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کئی امدادی کارکن اپنی جان کے خوف سے کام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کے سربراہ کی ’انروا‘ مرکز میں اسرائیلی فورسیز کے جبراً داخلے کی مذمت
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ انسانی امداد کو روکنا یا محدود کرنا نسل کشی کے حالات کو مزید گہرا کرتا ہے اور یہ اقدام نسل کشی کی روک تھام سے متعلق عالمی کنونشنز کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے، ان پابندیوں کو ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالے اور فلسطینی عوام کو بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر امدادی رسائی فوری بحال نہ کی گئی تو غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔