• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوامِ متحدہ بڑی حد تک غیر مؤثر ہو چکا ہے: ایس جے شنکر کا اصلاحات کا مطالبہ

Updated: October 06, 2026, 8:29 PM IST | New Delhi

اقوام متحدہ کی کارکردگی اور موجودہ عالمی بحرانوں میں اس کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ہندوستان نے عالمی ادارے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے کے باعث اقوام متحدہ بڑے عالمی مسائل پر فیصلہ سازی میں غیر مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔

Foreign Minister S Jaishankar. Photo: PTI.
وزیر خارجہ ایس جے شنکر ۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ یوکرین اور خلیجی خطے کے تنازعات سمیت بڑے عالمی مسائل پر فیصلہ سازی کے حوالے سے ’’غیر مؤثر‘‘ ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات یہاں پانچویں کوٹیلیہ اکنامک کانکلیو میں منعقدہ ایک انٹرایکٹو سیشن کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔ جے شنکر نے گزشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۱؍ویں اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ کانکلیو میں وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں اقوام متحدہ اور دنیا کے کثیرالجہتی اداروں کا مستقبل کیا ہے۔ 
جے شنکر نے کہا، ’’جہاں تک اقوام متحدہ کا تعلق ہے، میرے خیال میں اب یہ بات سب پر واضح ہو چکی ہے کہ اقوام متحدہ تعطل کا شکار ہے۔ اگر آپ آج کے بڑے مسائل کو دیکھیں، چاہے خلیجی خطے کا تنازع ہو، یوکرین کا تنازع ہو، افریقہ کے دیگر مسائل ہوں یا کووڈ، دراصل اقوام متحدہ بڑی حد تک فیصلہ سازی کے عمل میں غیر مؤثر رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ بھی ایک وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ رائے ہے کہ اس کی بڑی وجہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا تعطل کا شکار ہونا ہے۔ سلامتی کونسل اب پوری دنیا کے مفادات کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ‘‘جے شنکر ماضی میں بھی مختلف فورمز پر اقوام متحدہ کے بارے میں تنقیدی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف اپوزیشن کا مارچ پولیس نے روکا، ارکان حراست میں

انہوں نے جی ۲۰؍برازیل ۲۰۲۴ء کے وزرائے خارجہ کے دوسرے اجلاس میں کہا تھا، ’’دنیا ایک ذہین، باہم مربوط اور کثیر قطبی میدان میں تبدیل ہو چکی ہے اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعد اس کے ارکان کی تعداد چار گنا بڑھ چکی ہے، لیکن اقوام متحدہ اب بھی ماضی کا قیدی بنا ہوا ہے۔ ‘‘دہلی میں ہونے والے کانکلیو میں وزیر خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ اقوام متحدہ کا آغاز۵۱؍ ارکان کے ساتھ ہوا تھا اور آج اس کے ارکان کی تعداد تقریباً چار گنا ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ چار گنا بڑھ چکے ہیں اور پھر بھی انتظامی بورڈ پرانے ہی طریقے سے چلانا چاہتے ہیں تو یہ کام نہیں کرے گا۔ میرا مطلب ہے کہ یہ تو عام فہم بات ہے۔ ‘‘
جے شنکر نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ’’چند عناصر، چند ممالک اقوام متحدہ میں اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں اور وہ اصلاحات کو روکنے کیلئے افریقہ کا نام اور افریقہ کے مفادات کو دلیل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اب افریقہ کا اپنا واضح مؤقف موجود ہے۔ افریقہ بین الحکومتی مذاکرات میں آ چکا ہے اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اس نے اپنا مؤقف پیش کر دیا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہم اقوام متحدہ کی غیر مؤثریت، یا میں بہتر لفظ استعمال کروں تو اس کی بے اثری، کو یونہی دیکھتے رہیں گے۔ یہ ایک اہم سوال ہے، کیونکہ ہمیں اقوام متحدہ کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری کیلئے ایک بڑی خدمت انجام دی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: راجیہ سبھا انتخابات کیلئے سرگرمیاں تیز، یوپی میں دسویں سیٹ بی جے پی اور سماجوادی کیلئے ٹیڑھی کھیربنی

انہوں نے زور دیا کہ ہماری کوشش ’’اقوام متحدہ کو نظرانداز کرکے کام کرنا نہیں بلکہ اقوام متحدہ کو درست کرنا‘‘ ہونی چاہیے، اور اس عمل میں خود اقوام متحدہ کو بھی مدد کرنی ہوگی۔ اس اہم تقریب کا موضوع ’’تبدیلی کے دور میں لچک‘‘ تھا۔ جے شنکر نے تین روزہ کانکلیو کی اختتامی نشست میں سنگاپور کے سابق وزیر خارجہ جارج یونگ بون ییو کے ساتھ شرکت کی۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا، ’’میرے خیال میں صرف مالیاتی نظام ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم تجارتی نظام کے حوالے سے دنیا میں یہ وسیع احساس پایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مارکیٹ کیلئے ایک ایسا نظام بنایا جو منڈی کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن آج ہمارے سامنے بڑے پیمانے پر ایسی غیر منڈی پر مبنی پالیسیاں اور طریقہ کار موجود ہیں جن کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ آج یہ غیر منڈی پر مبنی طریقہ کار بین الاقوامی معیشت کو متاثر اور مسخ کر رہے ہیں۔ لہٰذا مارکیٹ کے اصول اور غیر منڈی پر مبنی حقیقت کے درمیان یہ کشمکش ہی میرے خیال میں بنیادی مسئلہ ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK