اقوام متحدہ نے منگل کو غزہ کے فلسطینی بچوں کی اسکول واپسی کیلئے مہم کے آغاز کا اعلان کیا جس کے تحت محصور علاقے میں ۱۱۰؍ جگہوں پر تقریبا ایک لاکھ ۳۵۰۰۰؍ بچوں کی رسمی تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 10:13 PM IST | Gaza
اقوام متحدہ نے منگل کو غزہ کے فلسطینی بچوں کی اسکول واپسی کیلئے مہم کے آغاز کا اعلان کیا جس کے تحت محصور علاقے میں ۱۱۰؍ جگہوں پر تقریبا ایک لاکھ ۳۵۰۰۰؍ بچوں کی رسمی تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے جاری اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کی وجہ سے غزہ میں بچوں کی تعلیم بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہے۔ ان بچوں کو تعلیم سے دوبارہ جوڑنے کیلئے اقوام متحدہ نے ایک خصوصی مہم کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے اطفال یونیسیف کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد اسرائیل کی نسل کشی کے دوران غزہ کی تقریباً ۹۰؍ فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے اور ۷؍ لاکھ سے زیادہ بچے رسمی تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں۔ ایجنسی کے ترجمان جیمس ایلڈر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’تقریباً ڈھائی سال سے غزہ کے تعلیمی اداروں پر جاری حملوں نے ایک پوری نسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘
ایلڈر نے کہا کہ یونیسیف فلسطینی علاقے میں تعلیم کو فروغ دینے کیلئے اب بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے دنیا میں کسی بھی ہنگامی جگہ پر سب سے تیز رفتاری سے تعلیمی سلسلہ شروع کرنے کی مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایجنسی غزہ میں ۱۱۰؍ جگہوں پر ایک لاکھ ۳۵۴۰۰؍ بچوں کو تعلیم فراہم کر رہی ہے، ان میں سے زیادہ تر جگہوں پر خیموں میں تعلیم دی جارہی ہے۔ ان کا مقصد اس تعداد کو دوگنا کرنا ہے تاکہ ۲۰۲۷ء میں اسکول جانے کی عمر والے ۳؍ لاکھ ۳۶۰۰۰؍ سے زیادہ بچوں کو تعلیم دی جاسکے اور وہ ذاتی طور پر سیکھنا شروع کر دیں۔
یونیسیف اس پروجیکٹ پر فلسطینی وزارت برائے تعلیم اور انروا (یو این آر ڈبلیو اے) کے ساتھ کام کر رہا ہے، جو جنگ سے پہلے غزہ کے تقریباً نصف بچوں کو اسکولی تعلیم فراہم کرتا تھا۔ یونیسیف کو اس سال غزہ میں تعلیمی نظام کو برقرار رکھنے کیلئے ۸۶؍ ملین ڈالر کی رقم درکار ہے۔ ایلڈر نے نشان دہی کی کہ ’’اتنی رقم دنیا میں ایک یا دو گھنٹے میں کافی پر خرچ کر دی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے اصرار کیا کہ ’’بچوں کو ایسی حالت میں اسکول واپس لانا درست نہیں ہے مگر یہ ایمرجنسی ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جنگ سے پہلے غزہ میں فلسطینیوں کی شرح تعلیم دنیا کے سب سے زیادہ خواندگی کی شرح والے ممالک میں سے ایک تھی۔ آج وہ میراث خطرے میں ہے، یونیورسٹیز اور کتب خانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور برسوں کی ترقی کو مٹا دیا گیا ہے۔‘‘ ایلڈر نے زور دیا کہ غزہ میں تعلیم حاصل کرنا زندگی بچانے کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: منیا پولس کے ٹائون ہال میں صومالی نژاد نمائندہ الہان عمر پر کیمیائی حملہ
ایلڈر نے اس بات کی نشان دہی کی کہ ’’یہ ادارے خطرناک اور نا قابل رسائی علاقوں میں محفوظ مقامات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو صحت، غذائیت اور حفاظتی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، ساتھ ہی صاف بیت الخلاء اور ہاتھ دھونے کی جگہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ چیزیں بہت سے بچوں کو خیموں میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ادارے اسرائیل اور غزہ کے بیچ امریکہ کے ذریعے کرائی گئی نازک جنگ بندی کے دوران بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ وہاں ضروریات زندگی کیلئے درکار سامان بھی فراہم کر رہے ہیں۔ یونیسیف نے کہا کہ انہوں نے ۴؍ ہزار ۴۰۰؍ تفریحی سامان کے بیگ اور اسکولی سامان کے ڈبوں کا انتظام کیا ہے، جن میں پینسل، قلم، کھڑیا، مشقی بیاضیں اور جیومیٹری باکس شامل ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ ہفتے کے آخر میں ان امدادی سامان کے ڈبوں کی تعداد بڑھ کر ۱۱؍ ہزار ہو جائے گی اور آئندہ ہفتوں میں مزید سامان یہاں پہنچ جائے گا۔