Updated: January 15, 2026, 7:04 PM IST
| Abu Dhabi
ایک لیک شدہ سرکاری دستاویز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بحیرۂ احمر میں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے اسرائیل کو غزہ کی جنگ میں براہِ راست فوجی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کی تجویز دی تھی۔ خط میں قطر اور کویت پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اماراتی لیکس کی جانب سے حاصل کی گئی ایک لیک شدہ سرکاری دستاویز نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا اور حساس پہلو بے نقاب کیا ہے۔ اس دستاویز کے مطابق یو اے ای (متحدہ عرب امارات) نے بحیرۂ احمر میں واقع اپنے فوجی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو غزہ جنگ میں براہِ راست فوجی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ خط اکتوبر ۲۰۲۳ء کا ہے جسے حمدان بن زائد النہیان نے تحریر کیا ہے، جو اماراتی ریڈ کریسنٹ اتھاریٹی کے چیئرمین ہیں۔ یہ خط متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نام لکھا گیا تھا۔ دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس میں ان تمام تیاریوں اور انتظامات کی تفصیل دی گئی ہے جن کا مقصد ’’فلسطین میں دہشت گردوں کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں ریاستِ اسرائیل کی حمایت اور تقویت‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ : سخت سردی میں تباہ حال عمارتوں کی دیواریں منہدم
لیک دستاویز کے مطابق یہ حمایت یمن، اریٹریا اور صومالیہ کے راستے بحیرۂ احمر کے جنوبی علاقوں میں واقع اماراتی اڈوں سے فراہم کی جانی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انکشاف اسرائیل کے ساتھ امارات کی براہِ راست فوجی شراکت داری کی ایک ایسی مثال ہے، جو اس سے قبل اس سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئی تھی۔ دستاویز میں قطر پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ قطر کی مبینہ طور پر حماس کی حمایت نے ’’قطر اور مخالف فریقین کے درمیان مسائل اور تنازعات کو جنم دیا ہے۔‘‘ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اماراتی تحقیقات کے مطابق کویت کو بھی ان ممالک میں شامل کرنا ضروری ہے جو امارات کے لیے مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں، کیونکہ وہ قطر کے مخالف ممالک کے گروپ میں شامل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تنظیم ہند رجب نے اسرائیلی فوجی کیخلاف آسٹریا میں فوجداری مقدمہ دائر کیا
مزید برآں، دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کویت نے فلسطین میں سرگرم مسلح گروہوں کو ’’بڑی مالی معاونت‘‘ فراہم کی، جو امارات اور کویت کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان الزامات نے خلیجی ممالک کے باہمی تعلقات اور خطے کی سیاست میں نئی کشیدگی کے امکانات کو جنم دیا ہے۔ تاہم، اب تک امارات، قطر یا کویت کی جانب سے اس لیک دستاویز پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کے مطابق اگر ان انکشافات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔