اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا پانی کے عارضی بحران سے آگے نکل کر عالمی سطح پر پانی کے دیوالیہ پن کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 8:07 PM IST | New York
اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا پانی کے عارضی بحران سے آگے نکل کر عالمی سطح پر پانی کے دیوالیہ پن کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا پانی کے عارضی بحران سے آگے نکل کر عالمی سطح پر پانی کے دیوالیہ پن (Water Bankruptcy) کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انسان کے ذریعے سالانہ پانی کا استعمال، قدرت کی طرف سے بارش اور برف کے ذریعے فراہم کردہ تجدید پذیر پانی کے بجٹ (Renewable Water Budget) سے تجاوز کر گیا ہے۔۱۹۹۰ء کی دہائی سے دنیا کی آدھی بڑی جھیلوں میں پانی کی کمی واقع ہو رہی ہے، جبکہ یہ جھیلیں براہ راست عالمی آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو سہارا دیتی ہیں۔ گزشتہ۵۰؍ برسوں میں قدرتی زیر زمین پانی (Wetlands) کے تقریباً۴۱۰؍ ملین ہیکٹر رقبے کا نقصان ہوا ہے، جو تقریباً یورپی یونین کے کل رقبے کے برابر ہے۔عالمی سطح پر نصف گھریلو پانی زیرِ زمین پانی (Groundwater) سے آتا ہے، جبکہ۴۰؍ فیصد سے زیادہ آبپاشی کا پانی مسلسل کم ہوتی ہوئی آبی ذخیرہ دار تہوں (Aquifers) سے نکالا جا رہا ہے۔ ۷۰؍ فیصد بڑے آبی ذخیروں میں طویل مدتی کمی دیکھی گئی ہے۔تقریباً ۴؍ ارب افراد ہر سال کم از کم ایک ماہ شدید پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ دنیا کی تقریباً ۷۵؍ فیصد آبادی ان ممالک میں رہتی ہے جوپانی سے غیر محفوظ (Water-insecure) ، انتہائی غیر محفوظ (Critically Water-insecure) ہیں۔ تقریباً۲؍ اعشاریہ ۲؍ ارب افراد کوصاف پینے کے پانی تک رسائی نہیں، اور۳؍ اعشاریہ ۵؍ ارب افراد محفوظ صفائی ستھرائی کی سہولیات سے محروم ہیں۔۲۰۲۲ء سے۲۰۲۳ء کے درمیان ایک اعشاریہ ۸؍ ارب افراد خشک سالی (Drought) کے حالات میں زندگی بسر کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک سے اقوام متحدہ اور کثیرفریقی نظام کے تحفظ کی اپیل
بعد ازاں ویٹ لینڈ ایکو سسٹم سروسیز کے سالانہ نقصان کا تخمینہ ۵؍ اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر لگایا گیا، جبکہ خشک سالی سے ہونے والا سالانہ نقصان۳۰۷؍ ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یونیورسٹی آف اقوام متحدہ کے انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ، نے اپنی تازہ ترین انتباہی رپورٹ عالمی پانی کا دیوالیہ پن: بحران کے بعد کے دور میں اپنے ہائیڈرولوجیکل ذرائع سے بڑھ کر زندگی میں اعلان کیا ہے کہ دنیا پانی کے دیوالیہ پن کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔رپورٹ کے سربراہ مصنف نے انادولو کو بتایا کہ یہ مسئلہ ایک سادہ مالی تشبیہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم دستیاب یا قدرتی آمدنی سے زیادہ استعمال کرتے رہے تو ہمیں اپنی بچت استعمال کرنی ہوگی۔انہوں نےپانی کے دیوالیہ پن کو ایک موثر اصطلاح قرار دیا لیکن زور دے کر کہا کہ یہ محض ایک انتباہ نہیں ہے ، اسے ذمہ داری سے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق مالی دیوالیہ پن کی طرح یہ بھی ناکامی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے، ایسی صورت حال جہاں دستیاب بجٹ اخراجات سے مطابقت نہیں رکھتا۔جس طرح مالی دیوالیہ پن ہمیں تلخ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے، اسی طرح پانی کا دیوالیہ پن بھی ایماندارانہ اعتراف کا تقاضا کرتا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں ترقی کا موجودہ ماڈل اور پانی کیتقسیم کاری غیر پائیدار اور بنیادی طور پر ناکارہ ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بحران کا تصور عارضی صورت حال کو ظاہر کرتا ہے، لیکن دنیا کے کئی خطوں میں پانی کا مسئلہ ابمعمول بن چکا ہے۔جبکہ دنیا سطحی اور زیرِ زمین پانی دونوں وسائل کو ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آتشی بموں سے ہزاروں فلسطینی ’’بھاپ‘‘ بن گئے: تحقیق میں انکشاف
مدنی نے وضاحت کی کہ پانی کے وسائل کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں انسانیت نے ماحول (خاموش اسٹیک ہولڈر) کا حصہ بھی لے لیا ہے۔ اس رویے کے نتیجے میں اب ایکو سسٹم (Ecosystem) کے وہ اجزاء ناکام ہو رہے ہیں جو خود بحال نہیں ہو سکتے۔ ویٹ لینڈز جو خود کو دوبارہ تشکیل نہیں دے سکتے، آبی ذخیرے جن کی قلیل مدتی میںبھر پائی نہیں ہوسکتی، اس کے علاوہ سکڑتے گلیشیئر (Glaciers)، ناپید ہوتی انواع، اور نقصان کی دیگر نشانیاں۔مدنی نے زور دے کر کہا کہ پانی کا دیوالیہ پن تمام ممالک کو متاثر کر سکتا ہے، خواہ ان کی معیشت کتنی ہی بڑی ہو۔ اہمیت کسی ملک کی دولت نہیں، بلکہ اس کے پانی کے اخراجات اور دستیاب پانی کے بجٹ کے درمیان توازن ہے۔ مالی دیوالیہ پن کی طرح آپ امیر یا غریب ہو سکتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ آپ اپنا بجٹ کیسے منظم کرتے ہیں۔
بعد ازاں مدنی نے کہا کہ یورپ اور شمالی امریکہ کے کچھ امیر ممالک بھی پانی کے دیوالیہ پن یا اس کے نتائج سے دوچار ہیں۔ یاد رہے کہ پانی ایک قدرتی اثاثہ ہے جو ہمیں اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑنا ہے۔ اس قیمتی اور ضروری قدرتی اثاثے کی حفاظت دنیا بھر کے شہریوں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمیں وجودی خطرے (Existential Threat) کا سامنا کرنا پڑے گا۔