Updated: May 28, 2026, 10:00 PM IST
| New York
اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں عالمی درجۂ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس سے بھی زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء سے ۲۰۳۰ء کے دوران عالمی حدت کے ۱ء۵ ڈگری سینٹی گریڈ کی اہم حد عبور کرنے کا بھی قوی امکان موجود ہے۔
اقوامِ متحدہ نے جمعرات کو عالمی اوسط درجۂ حرارت میں اضافے کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اس سال اور اس کے بعد اگلے چار برسوں تک درجۂ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس کے برابر رہنے کا امکان ہے۔ اب تک ریکارڈ کئے گئے ۱۱؍گرم ترین سال ۲۰۱۵ءکے بعد ہی آئے ہیں، اور اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ رجحان جاری رہے گا، جبکہ ۲۰۳۱ءپہلے ایک اور گرم ترین سال اس فہرست میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق اس بات کا۷۵؍ فیصد امکان موجود ہے کہ ۲۰۲۶ءسے۲۰۳۰ء کے درمیان پانچ سال کا اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے (۱۸۵۰ء-۱۹۰۰ء) کی اوسط سے۱ء۵؍ڈگری سینٹی گریڈ کی اہم حد کو عبور کر جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا
یہ پیش گوئی ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب مغربی یورپ ایک ’ہیٹ ڈوم‘ یعنی گرم ہوا کے دباؤ میں جھلس رہا ہے، جس کے باعث برطانیہ اور فرانس میں مئی کے درجۂ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ ’آنے والے پانچ برسوں میں عالمی اوسط درجۂ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس کے برابر رہنے کا امکان ہے۔ ‘ادارے نے مزید کہا کہ۸۶؍ فیصد امکان ہے کہ ۲۰۲۶ءسے ۲۰۳۰ءکے درمیان کسی ایک سال میں درجۂ حرارت۲۰۲۴ء کا ریکارڈ توڑتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔ ‘
۲۰۲۷ءپر ایل نینو کا اثر
ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مرکزی مصنف لیون ہرمانسن کے مطابق، ۲۰۲۶ءکے اوآخر میں ایل نینو کے آنے کی پیش گوئی ہے، جس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ اس کے بعد والا سال یعنی۲۰۲۷ء نیا ریکارڈ قائم کرنے والا سال ثابت ہوگا۔ ‘گزشتہ ایل نینو نے ۲۰۲۳ءکو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بنانے میں کردار ادا کیا، جبکہ ۲۰۲۴ءتقریباً ۱ء۵۵؍ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ سب سے گرم سال بن گیا۔ ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں کے سمندری درجۂ حرارت کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے۔ یہ عموماً ہر دو سے سات سال کے درمیان ظاہر ہوتا ہے اور تقریباً۹؍ سے۱۲؍ ماہ تک جاری رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ فنڈ میں اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود صفر رقم: رپورٹ
۱ء۳؍سے ۱ء۹؍ ڈگری تک اضافہ
۲۰۱۵ءکے پیرس ماحولیاتی معاہدے کا مقصد عالمی حدت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ۲؍ ڈگری سے نمایاں طور پر کم، اور ترجیحی طور پر ۱ء۵؍ڈگری سے نیچے رکھنا تھا۔ یہ اہداف۱۸۵۰ء-۱۹۰۰ء کے اوسط درجۂ حرارت کے مقابلے میں طے کئے گئے ہیں، جب انسان نے بڑے پیمانے پر کوئلہ، تیل اور گیس جلانا شروع نہیں کیا تھا، جن سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق، ۲۰۲۶ءسے۲۰۳۰ء کے دوران درجۂ حرارت سالانہ۱۸۵۰ء سے۱۹۰۰ء کے درمیان رہنے والے اوسط درجۂ حرارت سے۱ء۳؍سے ۱ء۹؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ ۹۱؍ فیصد امکان ہے کہ۲۰۲۶ء سے۲۰۳۰ءکے درمیان کم از کم ایک سال ایسا ہوگا جب درجۂ حرارت عارضی طور پر۱ء۵؍ ڈگری کی حد سے تجاوز کر جائے گا۔ اسی طرح ۷۵؍ فیصد امکان ہے کہ پورے پانچ سال کی اوسط میں بھی یہ حد عبور ہو جائے گی۔