Updated: July 30, 2026, 10:09 PM IST
| Darfur
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سوڈان کے مغربی علاقے دارفور میں بڑھتی ہوئی بدامنی، مسلح جھڑپوں اور بین القبائلی تشدد کے باعث ۲۰؍ ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ متاثرہ افراد کو خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولتوں کی فوری ضرورت ہے، جبکہ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل تشدد کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
سوڈان جنگ سے عوام تباہی کا شکار۔ تصویر: آئی این این۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے مغربی خطے دارفور میں بگڑتی ہوئی سیکوریٹی صورتحال، مسلح تصادم اور بین القبائلی تشدد نے ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو جنم دیا ہے، جہاں ۲۰؍ ہزار سے زائد افراد حالیہ تشدد کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ امدادی ادارے محدود وسائل کے ساتھ متاثرین تک رسائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے اطلاع دی ہے کہ دارفور میں بدامنی اور بین القبائلی تشدد کے باعث ۲۰؍ ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور سعودی عرب کا عراق پرمشترکہ حملہ
نہوں نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے خاندان مختلف محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں، تاہم وہاں پہلے ہی بنیادی سہولتوں کی شدید کمی ہے، جس کے باعث متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق امدادی ادارے متاثرہ آبادی تک خوراک، صاف پانی، طبی امداد، پناہ گاہوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن مسلسل بدامنی اور سیکوریٹی خدشات امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ فرحان حق نے مزید کہا کہ ’’انسانی امدادی تنظیمیں متاثرہ افراد تک زندگی بچانے والی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن سلامتی کی خراب صورتحال اور رسائی میں رکاوٹیں ان کی کارروائیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا
اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور امدادی کارکنوں کو بلا رکاوٹ متاثرہ علاقوں تک رسائی فراہم کریں تاکہ ضرورت مند افراد کو بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق دارفور پہلے ہی سوڈان کے بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں گزشتہ کئی برسوں سے مسلح تصادم، نسلی کشیدگی اور انسانی بحران جاری ہے۔ اپریل ۲۰۲۳ء میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسیز (RSF) کے درمیان شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور لاکھوں دوسرے انسانی امداد کے محتاج بن گئے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مطابق سوڈان اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ مسلسل لڑائی، قحط کے خطرات، بیماریوں کے پھیلاؤ اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ دارفور میں تازہ تشدد نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں کے لیے مالی اور انسانی وسائل میں اضافہ کرے تاکہ بے گھر خاندانوں کو خوراک، رہائش، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات فوری طور پر فراہم کی جا سکیں، کیونکہ اگر تشدد کا سلسلہ جاری رہا تو متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔